ترقی کے دعوے ہوا میں اُ ڑ گئے،پاکستان خطرناک موڑ پر،تھنک ٹینک آئی پی آر کے چونکادینے والے انکشافات

  منگل‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2017  |  18:00

لاہور(این این آئی)تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے ملک کی معاشی صورتحال پر ایک حقائق نامہ جاری کیا ہے جس کے مطابق حکومت نے مالی سال2016-17کے تمام اہداف مس کر دئیے ہیں صرف مہنگائی پر کنٹرول رہا ہے اس دوران بہت سے معاشی اشاریے بری طرح پٹ گئے ہیں نیز اسی دوران ملک کی معاشی صورتحال انتہائی غیر متوازن رہی اگرچہ مالی سال 2018کیلئے کچھ مثبت صورتحال نظر آ رہی ہے جیسا کہ ایف بی آر کی طرف سے پہلی سہ ماہی میں 21فیصد گروتھ رہیںاس کے علاوہ برآمدات میں بھی کچھ اضافہ نظر آرہا ہے لیکن کیونکہ ہماری

معیشت انتہائی کمزور ستونوں پر کھڑی ہے اس لیے یہ مثبت صورتحال تھوڑے دنوں کیلئے ہی ہو گی ۔آئی پی آرکے حقائق نامہ میں مزید کہا گہا کہ ملک کے اندر میکرو اکنامک اشاریے اصل مسئلہ ہے جو کہ انتہائی خطر ناک صورتحال اختیار کر گئے ہیں ۔کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 12.1بلین امریکی ڈالرہے جو کہ جی ڈی پی کا 4فیصد بنتا ہے اس سلسلے میں آئی پی آر نے چند ماہ پہلے بھی حکومت کو اپنی ایک رپورٹ کے ذریعہ مستقبل میںآنے والے بحران کے بارے میں آگاہ کیا تھا ۔ جون 2017میں ملک کے اندر زر مبادلہ کے ذخائر 4ماہ کی درآمدات کیلئے بھی نا کافی تھے اور اس کے بعددرآمدات زیادہ ہونے کی وجہ سے ان میں مزید کمی ہوئی ۔2016-17میں غیر ملکی زر مبادلہ کے ذریعہ ملکی ذخائر میں 2ارب ڈالر کا اضافہ ہوا جبکہ اسی دوران بیرونی قرضہ 9.1بلین ڈالر بڑھ گیا ۔آئی پی آر کے حقائق نامہ میں مزید کہا گہا کہ مالی سال 2018میں بھی معیشت کا یہی رحجان جاری رہے گا نیز 2018 جولائی ،اگست میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ مزید زیادہ ہو جائے گا ،درآمدات کی زیادتی اور زر مبادلہ کے ذخائر کی کمی کی وجہ سے ملک کی معاشی صورتحال انتہائی کمزور ہو جائے گی ۔ ملک کے اندر کوئی سرمایہ کاری کا پروگرام نہیں ہے اور نہ ہی حکومت کے پاس کوئی ایسا منصوبہ نظر آ رہا ہے کہ وہ ان حالات سے کیسے نمٹے گی ۔آئی پی آر کے حقائق نامہ میں بڑی اقتصادی کمزرویوں کا بھی ذکر کیا گیا ہےجس کے مطابق مجموعی طور پر مالی خسارہ جی ڈی پی کا 5.8فیصد تھا جبکہ حکومت کا مقرر کردہ ہدف 3.8فیصد تھا۔ 2015-16میں ایف بی آر کا ہدف 20فیصد بڑھا دیا گیا جبکہ حکومت نے کوئی اصلاحات کیے بغیر 16فیصد کا ہدف اور بڑھا دیا ۔جہاں تک برآمدات کا تعلق ہے پچھلے 2سالوں میں ان میں مزید کمی آئی ہے اس کے بعد 2016-17میں 1.6فیصد مزید تنزلی کا شکار ہوئی ہیں جبکہ مارچ2017میں کچھ بہتری نظر آرہی ہے لیکن یہ بہتری مالی مراعات کے فوائد کی وجہ سے ہے جو کہ جنوری 2017اور اس کے بعد حال ہی میں دی گئی ہیں۔آئی پی آر کے حقائق نامہ کے مطابق معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ زیادہ بچت کی جائے اور سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جائے جبکہ یہاں صورتحال یہ ہے کہ2016-17میں قومی بچت کی تنزلی جی ڈی پی کا 13فیصد تھی ۔جہاں تک وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے بجٹ کا تعلق ہے اس میں کچھ حوصلہ افزا چیزیں نظر آ رہی ہیں کیونکہ اس میں پچھلے 3سالوں سے اضافہ ہو رہا ہے ، آئی پی آرکی رپورٹ میں حکومت کی کچھ ترجیحات پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا ہےیعنی پچھلے سالوں میں واٹر سیکٹر ،ہائیر ایجوکیشن اور نیشنل ہیلتھ سروسزکا بجٹ کم کیا گیا ہے واٹر سیکٹر جو کہ ایک انتہائی شعبہ ہے اس کا بجٹ کم کرنا سمجھ سے بالاتر ہے ۔ آئی پی آر کی رپورٹ میں مزید نشاندہی کی گئی ہے کہ ملازمتوں کے سلسلے میں بھی کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا اور ایک تخمینہ کے مطابق ملک میں ہر سال 20لاکھ نوجوان جاب مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں جبکہ ان کیلئے ملازمتیں دستیاب نہیں ہیں۔لہذا بیروزگاری میں یہ اضافہ کسی ٹائم بم سے کم نہیں ہے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں