شہباز شریف کا جج جواد الحسن سے مکالمہ جج صاحب آپ یکم جنوری کا اخبار دیکھیں، نیب کو 13سال بعد ریفرنس دائر کرنے کا خیال کیوں آیا ،اس کیس کا فیصلہ 2008ءمیں عدالت سنا دیا تھا

4  جنوری‬‮  2021

لاہور( این این آئی)احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کے وکیل کے پیش نہ ہونے پر ان کے خلاف نیب کے گواہوں کے بیان ریکارڈ نہ ہوسکے جس پر عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب کے گواہوں کو دوبارہ طلب کرتے ہوئے سماعت کل ( بدھ) تک ملتوی کر دی ، دوران سماعت شہباز شریف نے ایک بار پھر میڈیکل بورڈ بنانے کی استدعا کی

جس پر فاضل جج نے کہا تحریری درخواست دیں قانون کے مطابق حکم دوں گا۔ احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے منی لانڈرنگ ریفرنس پرسماعت کی ۔ مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف اور پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کو جیل سے لا کرعدالت میں پیش کیاگیا ۔دوران سماعت عدالت نے شہباز شریف کے وکیل کی عدم پر پیشی پر برہمی کا اظہار کیا اور ریمارکس دیئے کہ طبیعت کی خرابی کے باعث وہ عدالت آئے ہیں۔عدالت نے شہباز شریف سے استفسار کیا کہ آپ خود بحث کرلیں جس پر شہباز شریف نے استدعا کی کہ ان کے وکیل سپریم کورٹ میں مصروف ہیں، اس لئے کارروائی ملتوی کی جائے۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ صرف گواہان کا بیان ریکارڈ کرنا ہے جو جونیئر وکیل کے سامنے بھی ہو سکتا ہے، جس پر شہباز شریف نے کہا کہ یہ ان کا قانونی حق ہے کہ ان کے وکیل بیان ریکارڈ کرتے وقت موجود ہوں ۔دوران سماعت شہباز شریف نے جج جواد الحسن سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جج صاحب آپ یکم جنوری کا اخبار دیکھیں، نیب نے پنجاب کے سابق وزیر کیخلاف چنیوٹ میں ہونے والی ڈکیتی پر ریفرنس دائر کیا، نیب کو 13 سال بعد ریفرنس دائر کرنے کا خیال آیا، 2008 میں نوٹس میں نے لیا تھا، اربوں روپے کی ڈکیتی ہوئی، نیب نے اس وقت لکھا کہ کیس نہیں بنتا، اب 13 سال بعد ریفرنس دائر کیا۔دوران سماعت شہباز شریف نے احتساب عدالت سے ایک بار پھر میڈیکل بورڈ بنانے کی استدعا کر تے کرتے ہوئے کہا کہ اپنا اختیار استعمال کرتے ہوئے نیا میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیں جس پر فاضل جج نے کہا تحریری درخواست دیں قانون کے مطابق حکم دوں گا۔فاضل عدالت نے بآور کرایا کہ عدالت کے حکم پر ہی انہیں بکتر بند گاڑی سے بلٹ پروف گاڑی ملی۔عدالت نے اثاثہ جات اور منی لانڈرنگ ریفرنس پر کارروائی 6 جنوری تک ملتوی کرتے ہوئے نیب کے گواہوں کو آئندہ سماعت پر دوبارہ طلب کرلیا۔ پیشی کے موقع پر احسن اقبال ، خواجہ سعد رفیق ،مریم اورنگزیب ، امیر مقام ، خواجہ احمد حسان سمیت دیگر لیگی رہنما بھی عدالت پہنچے اور شہباز شریف اور حمزہ شہباز سے ملاقات کی۔ بڑی تعداد میں لیگی کارکنان بھی قیادت سے اظہار یکجہتی کے لئے عدالت پہنچے ۔کسی بھی نا خوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی جبکہ راستوںکو بھی کنٹینرز، بیرئیرز اور خار دار تاریںلگاکر بند رکھاگیا۔

موضوعات:



کالم



گوہر اعجاز سے سیکھیں


پنجاب حکومت نے وائسرائے کے حکم پر دوسری جنگ عظیم…

میزبان اور مہمان

یہ برسوں پرانی بات ہے‘ میں اسلام آباد میں کسی…

رِٹ آف دی سٹیٹ

ٹیڈکازینسکی (Ted Kaczynski) 1942ء میں شکاگو میں پیدا ہوا‘…

عمران خان پر مولانا کی مہربانی

ڈاکٹر اقبال فنا کوہاٹ میں جے یو آئی کے مقامی لیڈر…

بھکارستان

پیٹرک لوٹ آسٹریلین صحافی اور سیاح ہے‘ یہ چند…

سرمایہ منتوں سے نہیں آتا

آج سے دس سال قبل میاں شہباز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ…

اللہ کے حوالے

سبحان کمالیہ کا رہائشی ہے اور یہ اے ایس ایف میں…

موت کی دہلیز پر

باباجی کے پاس ہر سوال کا جواب ہوتا تھا‘ ساہو…

ایران اور ایرانی معاشرہ(آخری حصہ)

ایرانی ٹیکنالوجی میں آگے ہیں‘ انہوں نے 2011ء میں…

ایران اور ایرانی معاشرہ

ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں ‘ ہم اگر…

سعدی کے شیراز میں

حافظ شیرازی اس زمانے کے چاہت فتح علی خان تھے‘…