ایک دفعہ ایک میاں بیوی جا رہے تھے کسی بزرگ کے پاؤں سے عورت پر چھینٹیں پڑ گئیں اس عورت کے شوہر نے غصہ میں ان بزرگ کو طمانچہ مارا کہ دیکھ کر نہیں چل سکتے، میری بیوی کے سارے کپڑے خراب کر دیے ہیں۔ وہ بزرگ خاموش رہ کر چلتے بنے آگے شہر آ گیا شہر کے شروع میں ایک حلوائی کی دکان تھی،حلوائی نے یہ سوچ رکھا تھا کہ آج صبح صبح جو سب سے پہلے شہر میں داخل ہو گا اس کو گرم دودھ کا پیالہ پلاؤں گا
چنانچہ وہ پیالہ ان بزرگ کی قسمت میں آیا اور حلوائی نے وہ پلایا، یہ بزرگ کہنے لگے کہ اے اللہ واہ تیری بڑی عجیب شان ہے کہ تھوڑی دیر پہلے میری پٹائی کرا دی اور پھر اب گرم گرم دودھ کا پیالہ پلا رہے ہیں، چنانچہ تھوڑی دور گئے تو وہ میاں بیوی اپنے گھر پہنچ گئے، سیڑھیاں چڑھے، میاں کا اوپر والی سیڑھی سے پاؤں پھسلا اور دھڑام کرکے گرا اور فوت ہو گیا، بیوی بولنے لگی، لوگ اکٹھے ہو گئے کہ ایک بابا جی نے چھینٹے مارے تھے، انہوں (خاوند) نے ایک طمانچہ مار دیا تھا، لگتا ہے کہ بابا جی کی بددعا لگ گئی ہے، اتنے میں وہ بابا جی بزرگ صاحب بھی پہنچے فرمانے لگے کہ میں نے اس کے لیے کوئی بد دعا نہیں کی تھی اس کو اپنی بیوی سے محبت تھی اس نے اس کا بدلہ مجھ سے لے لیا اور مجھ سے میرے اللہ کو محبت ہے اس لیے میری طرف سے اللہ تعالیٰ نے اس سے بدلہ لے لیا۔ اور حدیث شریف میں بھی آتا ہے کہ جو اللہ کے ولی کو تنگ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس سے اعلان جنگ کرتا ہے۔ اس لیے کبھی اللہ والے (نیک آدمی) کو تنگ نہ کرنا چاہیے اور کسی کے ماتھے پر تو لکھا نہیں کہ یہ نیک ہے اس لیے کسی آدمی کو بھی تنگ نہیں کرنا چاہیے۔ آج ہم اس بنیادی (محبت) عبادت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں۔ اس کو حاصل کرنے کی فکر نہیں کرتے حالانکہ حق تعالیٰ کو ہم میں سے ہر ایک کے ساتھ بے انتہا محبت ہے جب کہ ان کو ہماری کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔



















































