اللہ تعالیٰ کی عظیم کتاب قرآن کریم بندہ اورخالق کے درمیان ہم کلامی کا شرف نصیب کرنے میں اکسیر کا درجہ رکھتی ہے۔ قرآن کریم کی تلاوت اس کاترجمہ و تفسیر کا علم حاصل ہو جائے اور انسان اس کے حقوق اور تقاضوں پر عمل کرنے والابن جائے تو ایسا مسلمان آخرت میں عزت کیعلاوہ دنیا میں بھی پرسکون زندگی بسر کرتا ہے۔
قرآن عزیز مسلمانوں کی مقدس ترین کتاب ہے قرآن مقدس کی سب سے بڑی خوبی (وصف) یہ ہے کہ اسے ارض و سموات کے خالق و مالک نے خود کلام کیا، کلام الٰہی کے سب سے پہلے سامع سیدالملائکہ حضرت جبرائیلؑ ہیں، سید الملائکہ نے اس کلام الٰہی کی تلاوت سید المرسلینؐ کے سامنے کی، سید المرسلینؐ پر اس مقدس کلام کو نازل کیا گیا، قرآن مقدس کی ایک آیت جیسی آیت دنیا بھر کی تمام مخلوقات ایک دوسرے کی مدد کرکے بھی نہیں بناسکتی، قرآن مقدس وہ کتاب ہے جسے وضو کے بغیر ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا، اس مقدس کتاب کی تلاوت صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو پاک اور صاف ہو، قرآن مجید وہ کتاب ہے جس کی دنیا بھر میں سب سے زیادہ طباعت ہوتی ہے، قرآن شریف وہ کتاب ہے جس کی دنیا بھر میں ہر وقت تلاوت ہوتی ہے، قرآن عزیز وہ کتاب ہے جس کی تلاوت تمام کتابوں سے بڑھ کر ہے، قرآن شریف ہی وہ کتاب ہے جس کو سمجھ میں نہ آنے کے باوجود پوری توجہ سے پڑھاجاتاہے، قرآن شریف ہی کو یہ اعزاز حاصل ہیکہ اس کو دنیا کی ہر زبان بولنے والا باآسانی پڑھ سکتاہے، قرآن شریف ہی کا یہ معجزہ ہے کہ باربار پڑھنے کے باوجود دوبارہ پڑھنے پر توجہ باقی رہتی ہے اور اکتاہت نہیں ہوتی،
قرآن شریف ہی کا یہ اعجاز ہے کہ اسے زبانی (حفظ) مکمل طور پر یاد کیا جا سکتا ہے، قرآن شریف کا یہ بھی اعجاز ہے کہ اس کے الفاظ کی حفاظت، کم عمر، ناسمجھ، غیر ذمہ دار، سچ، جھوٹ اور کھرے کھوٹے میں تمیز نہ کر سکنے والے، جلد لالچ میں آ جانے والے، فوراً خوف میں مبتلا ہو جانے والے، دباؤ برداشت نہ کر سکنے والے بچوں اور بچیوں سے کرائی جاتی ہے، قرآن مقدس کی تلاوت کرنے والے کی آواز پر خود اللہ تعالیٰ شانہ، توجہ دیتے ہیں،
قرآن مقدس کی تلاوت پر ہر ہر حرف کے بدلے میں دس دس نیکیاں اللہ تعالیٰ شانہ کی طرف سے ملتی ہیں، قرآن مقدس کی تلاوت کرنے والے پر اللہ تعالیٰ فرشتوں کے مجمع میں فخر فرماتے ہیں، قرآن مقدس کی تلاوت جہاں ہوتی ہے، فرشتے اس جگہ پر جمع ہو کر اس مجلس کو گھیر لیتے ہیں، قرآن مقدس کی تلاوت والی مجلس کو اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے، قرآن مقدس کی تلاوت والی مجلس پر اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت (سکینہ) نازل ہوتی ہے،
قرآن مقدس کی تلاوت کے بعد تلاوت کرنے والے کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیا جاتا ہے، قرآن مقدس کی تلاوت دلوں کے میل کی صفائی کا اکسیر نسخہ ہے، قرآن مقدس کی تلاوت کے بعد تلاوت کرنے والے کی مغفرت کا اعلان کر دیا جاتا ہے، قرآن مقدس کی تلاوت فتنوں سے بچنے کی ڈھال ہے، قرآن مقدس کی تلاوت قیامت کے دن تلاوت کرنے والے کے حق میں نور کی صورت میں ظاہر ہو گی قرآن مقدس آخرت میں بہت بڑا سفارشی ہوگا،
قرآن مقدس کی سفارش و شفاعت قبول کی جائے گی، قرآن مجید کا یہ حق ہے کہ سال میں کم ازکم دو مرتبہ شروع سے آخرتک مکمل تلاوت کی جائے، قرآن مقدس کی اشاعت کا، تبلیغ کا، پھیلانے کاہرہرمسلمان پر حق ہے، لہٰذا تلاوت قرآن کے اہتمام کے ساتھ قرآنی مکاتب کے قائم کرنے، باقی رکھنے کی اپنے قول و عمل سے رقم سے، قدم سے ہر ممکن کوشش تا حیات کی جائے۔ اللہ پاک ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔



















































