انسانی جسم میں جس طرح روح اصل ہے اسی طرح اعضاء انسانی میں دل اصل اور بادشاہ کی طرح ہے کہ دیگر تمام اعضاء اس کے تابع فرمان ہیں اور اس کی خواہش کے مطابق عمل کرنے کے پابند ہیں۔ دل کی صفائی اور تزکیہ کے بعد انسانی زندگی سکون و راحت کاگہوارہ کیسے بنتی ہے۔ اس سلسلہ میں اہم مضمون پیش خدمت ہے جس پر غور و فکر اور عمل ہماری زندگی کو بھی سکون سے ہمکنار کر سکتا ہے۔
دل یوں تو یہ گوشت کاایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے لیکن یہ ایک عجوبہ ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں یہ سادہ بھی ہے عیار بھی، مغرور بھی ہے خاکسار بھی ہے، بے خبر بھی ہے محرم اسرار بھی ہے، بت کا بندہ بھی ہے، خالق کاپرستار بھی ہے، مجلس عشق میں دیکھئے تو مدہوش ہوتاہے عقل کی محفل میں دیکھیں تو ہوشیار بھی ہے، مسیحا بھی ہے بیمار بھی ہے، فرمانبردار بھی ہے گناہ گار بھی ہے، بے خبر بھی ہے خبردار بھی ہے، یہ بکتا بھی ہے خریدار بھی ہے گل بھی ہے خار بھی ہے۔ امن کا مرکز بھی ہے۔ برسرپیکار بھی ہے، برسردار بھی ہے سردار بھی ہے، طاقتور بھی ہے لاچار بھی ہے، قتیل بھی ہے تلوار بھی ہے، مجبور بھی ہے، مختار بھی ہے، مستحق خلد بھی ہے دوزخ کا سزاواربھی ہے۔ایک حکیم نے دل کے بارے میں کہا ہے کہ نادان لوگ دولت کے لیے دل کاچین لٹا دیتے ہیں اوردانش مند دل کے چین کی خاطر دولت لٹا دیتے ہیں۔دوسرے حکیم کا کہنا ہے کہ دوسروں کا دل جیتنے کے لیے اپنا دل جیتناضروری ہے اگر تم نے اپنے دل پر قابو پا لیا تو دنیاتمہارے قبضے میں ہے۔تیسرے حکیم کاخیال ہے دل کالا ہو تو گورے منہ پر اترانا بے وقوفی ہے۔چوتھے حکیم کی رائے یہ ہے کہ بے وقوف کا دل اس کی زبان میں ہوتا ہے اور عقل مند کی زبان اس کے دل میں ہوتی ہے۔حضرت حسن بصریؒ اسی دل کے بارے میں فرماتے ہیں کہ پانچ چیزیں دل کے بگڑنے کی نشانی ہیں۔
(1) توبہ کی امید پر گناہ کرنا (2) علم سیکھنا اور عمل نہ کرنا (3) اخلاص نہ ہونا (4) رزق کھانااور شکر نہ کرنا (5) مردوں کو دفن کرنا اور عبرت نہ پکڑنا۔امام شافعیؒ فرماتے ہیں۔ دل کو روشن کرناہو تو غیر ضروری باتوں سے پرہیز کرو۔ امام جعفر صادقؒ کہتے ہیں: حقیقی تقویٰ یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے دل میں ہے اگر تم اس کو کھلے ہوئے طباق میں رکھ دو اور اس کو لے کر بازار کا گشت کرو تو اس میں ایک چیز بھی ایسی نہ ہو جس کو اس طرح ظاہر کرنے میں تمہیں شرم آئے یا کوئی حرف گیری کر سکے۔
حضرت عثمانؓ نے فرمایا: غم دنیا دل کوتاریک اور غم عقبیٰ دل کو روشن کرتا ہے۔حضرت عیسیٰؑ کافرمان مبارک ہے: دنیا میں دو چیزیں پسندیدہ ہیں ایک سخنِ دل پذیر دوم دلِ سخن پذیر۔حضور اکرمؐ کاقول اقدس ہے: تمہارے جسم میں گوشت کاایک ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو تو سارا جسم درست ہوتا ہے جب وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے، معلوم رہے کہ وہ دل ہے۔ مسند احمد کی روایت میں حضور علیہ السلام کا ارشاد گرامی ہے کہ دل چار قسم کے ہوتے ہیں: پہلا قلب اجرد، یعنی ایسا دل جو صاف و شفاف ہو،
فرمایا اس کی مثال روشن چراغ جیسی ہے جس میں کسی قسم کی کوئی خرابی نہ ہو۔ دوسرا قلب اغلف ہے جو غلاف میں بند کر دیا گیا ہو اور پھر اوپر سے دھاگے کے ساتھ باندھ دیاگیا ہو۔ تیسرا قلب منکوس یعنی اوندھا ہے، اس کا سر نیچے اور پیندا اوپر ہے۔ چوتھا قلبِ مصفح ہے یعنی دو پہلو والادل۔پہلی قسم کا دل مومن کا ہے جس میں نور ایمان بالکل صاف اور واضح ہے اس میں کوئی خرابی یا کسی قسم کی ملاوٹ نہیں ہوتی۔ غلاف میں بند دل کافرکا ہے۔
اوندھا دل منافق کاہے جس نے ایمان کو پہچان تو لیاہے مگر قبول نہیں کیا وہ محض اپنے بچاؤ کی خاطر فریب کاری کرتاہے۔ رہا پہلو دار دل تو وہ ایسا ہے جس میں ایمان بھی ہے اور نفاق بھی یہ عملی منافق ہے جسے کسی حد تک یقین بھی ہوتاہے اورکبھی وہ متردد بھی ہوجاتاہے۔حضرت ابوبکر وراق بڑے پائے کے بزرگ ہوئے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ قلب پر چھ قسم کی حالتیں وارد ہوتی ہیں۔
یعنی حیات اور موت، صحت اور بیماری، بیداری اور نیند۔ فرماتے ہیں قلب کی حیات ہدایت کی مرہون منت ہے اگر ہدایت نصیب ہو گئی تو سمجھ لیں کہ دل زندہ ہے اور قلب کی موت گمراہی سے واقع ہوتی ہے۔ کسی قسم کی گمراہی دل میں پیدا ہو جائے تو سمجھ لیں کہ دل مردہ ہوگیاہے۔ قلب کی صحت، طہارت اور صفائی کی وجہ سے ہوتی ہے اور طہارت کا حصول ایمان اور توحید کی بدولت ہے کہ ایمان کے بغیر طہارت نصیب نہیں ہو سکتی۔
قلب سلیم وہی ہو گا جس میں پاکیزگی اور نورِ ایمان ہوگا اس کے برخلاف قلب میں بیماری گندے تعلقات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ دل کی بیداری ذکرِ الٰہی میں ہے۔ اگر انسان اللہ کے ذکر سے غافل ہے تو سمجھ لو کہ اس کے دل پر غفلت کی نیند طاری ہے۔ہمیں کوئی جسمانی بیماری لاحق ہوجائے تو ہم پریشان ہو جاتے ہیں لیکن دل کی بیماریوں کی طرف ہماری کوئی توجہ نہیں۔
ریا کاری دل کی بیماری ہے جان لیں کہ تکبر دل کی بیماری ہے ہوس دل کی بیماری ہے حرص دل کی بیماری ہے بخل دل کی بیماری ہے کینہ دل کی بیماری ہے حسد دل کی بیماری ہے اور انبیاء علیہم السلام انہی بیماریوں سے دل کو پاک کرنے کے لیے دنیا میں آتے رہے ہیں۔ انہوں نے سب سے زیادہ محنت قلوب کے تزکیہ پر کی، سب سے زیادہ زور دلوں کی تطہیر پر دیا اس لیے کہ دل پاک ہوجائے تو انسان پاک ہوجاتا ہے۔
دل بدل جائے تو انسان بدل جاتاہے، اس کی زندگی بدل جاتی ہے، مقصدِ حیات بدل جاتاہے، دیکھنے کا اندازہ بدل جاتا ہے، محبت و عداوت کے پیمانے بدل جاتے ہیں، محنت اور تجارت کے ہدف بدل جاتے ہیں، گھربدل جاتے ہیں۔ معاشرہ بدل جاتا ہے، زمانہ بدل جاتاہے، تاریخ بدل جاتی ہے، اخلاق بدل جاتے ہیں۔ راتیں بدل جاتی ہیں، ساقی بدل جاتے ہیں، پیمانے بدل جاتے ہیں، مے خوار بدل جاتے ہیں۔ میخانے بدل جاتے ہیں ارے اور تو اور پیرمغاں بدل جاتے ہیں۔آئیے ہم دلوں کے بدلنے کی محنت کریں اور قلوب کا تزکیہ کریں۔اہل اللہ کے زندہ دل ہونے کا راز۔حکیم الامت حضرت تھانویؒ فرماتے ہیں کہ ذکر اللہ سے لطافت کے ساتھ بشاشت بھی قلب میں بڑھ جاتی ہے اس لیے اہل اللہ زندہ دل ہوتے ہیں مردہ دل نہیں ہوتے۔



















































