اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

کافرکامیاب لوٹا

datetime 8  مئی‬‮  2017 |

ایک مرتبہ دو شخص مچھلیوں کے شکار کی غرض سے نکلے، ان میں ایک کافر تھا اور دوسرا مسلمان، کافر اپنا جال ڈالتے وقت اپنے معبودوں کانام لیتا جس کی وجہ سے اس کا جال مچھلیوں سے بھر جاتا اور مسلمان اپناجال ڈالتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا لیکن کوئی مچھلی اس کے ہاتھ نہ آتی، اس کا جال خالی رہتا، اسی طرح غروب آفتاب تک دونوں شکار کرتے رہے،

آخر کار ایک مچھلی مسلمان کے ہاتھ لگی۔ لیکن وائے ناکامی! وہ مچھلی بھی اس کے ہاتھ سے اچھل کر پانی میں کود گئی یہاں تک کہ یہ بے چارہ غریب مسلمان شکار گاہ سے ایساخائب و خاسر لوٹا کہ اس کے ساتھ کوئی شکار نہ تھا، اور کافر ایساکامیاب لوٹا کہ اس کا کشکول مچھلیوں سے بھرا ہوا تھا، اس عجیب و غریب حیرت ناک واقعہ سے فرشتہ مومن کو سخت افسوس ہوا اور بارگاہ خداوندی میں عرض کیا کہ اے میرے رب! یہ کیابات ہے کہ تیرا ایک مومن بندہ جو تیرا نام لیتا ہے ایسی حالت میں لوٹتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی شکار نہیں ہوتا اور تیرا کافر بندہ ایسا کامیاب واپس آتا ہے کہ اس کا کشکول مچھلیوں سے لبریز ہوتاہے۔اللہ تعالیٰ نے اس مرد مومن کا عالی شان محل دکھا کر جو اس کے لیے جنت میں تیار کر رکھا ہے فرشتہ مومن سے خطاب فرمایا کہ اے فرشتہ! کیا اس مقام کو حاصل کرنے کے بعد میرے اس بندہ مومن کو جو رنج و تعب جو دنیا میں مچھلیوں کے شکار میں ناکامی کے باعث ہواتھا، باقی رہے گا؟ اور کافر کے اس بدترین مقام کو دکھلا کر جو اس کے لیے جہنم میں تیار کر رکھا ہے ارشاد فرمایا کہ کافر کی وہ چیزیں جو اس کو دنیا میں عطا کی گئیں اس جہنم کے دائمی عذاب سے نجات دلا سکتی ہیں؟ فرشتے نے جواب دیا کہ اے میرے پروردگار! آپ کی ذات کی قسم، بالکل ایسا نہیں ہو سکتا۔سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان کی کتنی قدر و منزلت ہے، مسلمانو! اس کی قدر کرو، کسی دنیوی مصیبت کی وجہ سے پست ہمت اور ملول مت ہوں! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دنیا کے عوض ایسی ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اورنہ کسی کان نے سنی اور نہ ہی کسی کے دل میں ان کے باریمیں کوئی خیال گزرا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…