ایک مرتبہ دو شخص مچھلیوں کے شکار کی غرض سے نکلے، ان میں ایک کافر تھا اور دوسرا مسلمان، کافر اپنا جال ڈالتے وقت اپنے معبودوں کانام لیتا جس کی وجہ سے اس کا جال مچھلیوں سے بھر جاتا اور مسلمان اپناجال ڈالتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام لیتا لیکن کوئی مچھلی اس کے ہاتھ نہ آتی، اس کا جال خالی رہتا، اسی طرح غروب آفتاب تک دونوں شکار کرتے رہے،
آخر کار ایک مچھلی مسلمان کے ہاتھ لگی۔ لیکن وائے ناکامی! وہ مچھلی بھی اس کے ہاتھ سے اچھل کر پانی میں کود گئی یہاں تک کہ یہ بے چارہ غریب مسلمان شکار گاہ سے ایساخائب و خاسر لوٹا کہ اس کے ساتھ کوئی شکار نہ تھا، اور کافر ایساکامیاب لوٹا کہ اس کا کشکول مچھلیوں سے بھرا ہوا تھا، اس عجیب و غریب حیرت ناک واقعہ سے فرشتہ مومن کو سخت افسوس ہوا اور بارگاہ خداوندی میں عرض کیا کہ اے میرے رب! یہ کیابات ہے کہ تیرا ایک مومن بندہ جو تیرا نام لیتا ہے ایسی حالت میں لوٹتا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی شکار نہیں ہوتا اور تیرا کافر بندہ ایسا کامیاب واپس آتا ہے کہ اس کا کشکول مچھلیوں سے لبریز ہوتاہے۔اللہ تعالیٰ نے اس مرد مومن کا عالی شان محل دکھا کر جو اس کے لیے جنت میں تیار کر رکھا ہے فرشتہ مومن سے خطاب فرمایا کہ اے فرشتہ! کیا اس مقام کو حاصل کرنے کے بعد میرے اس بندہ مومن کو جو رنج و تعب جو دنیا میں مچھلیوں کے شکار میں ناکامی کے باعث ہواتھا، باقی رہے گا؟ اور کافر کے اس بدترین مقام کو دکھلا کر جو اس کے لیے جہنم میں تیار کر رکھا ہے ارشاد فرمایا کہ کافر کی وہ چیزیں جو اس کو دنیا میں عطا کی گئیں اس جہنم کے دائمی عذاب سے نجات دلا سکتی ہیں؟ فرشتے نے جواب دیا کہ اے میرے پروردگار! آپ کی ذات کی قسم، بالکل ایسا نہیں ہو سکتا۔سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ کے ہاں ایمان کی کتنی قدر و منزلت ہے، مسلمانو! اس کی قدر کرو، کسی دنیوی مصیبت کی وجہ سے پست ہمت اور ملول مت ہوں! اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دنیا کے عوض ایسی ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں اورنہ کسی کان نے سنی اور نہ ہی کسی کے دل میں ان کے باریمیں کوئی خیال گزرا۔



















































