ایک دفعہ حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ ایک جگہ تشریف لے گئے۔ اس وقت وہ نو عمر تھے۔ لیکن وہ اپنے علم کی وجہ سے بہت مشہور ہو گئے تھے۔ وہاں کے محدثین نے ان کا امتحان لینے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ انہوں نے دس دس احادیث اس طرح یاد کیں کہ ہر حدیث کی سند اور متن کو کسی دوسری حدیث کے متن کے ساتھ خلط ملط کر دیا۔ سند ایک کی متن، دوسری کا۔
اسی طرح ایک ٹکڑا ایک حدیث کا اور دوسرا دوسری کا۔ وہ تعداد میں دس تھے اور ہر ایک نے دس احادیث یاد کیں۔ اب وہ امتحان لینے کے لیے تیار تھے۔ وہ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کے پاس پہنچے۔ ان میں سے ایک نے تحریر پڑھی تو آپ نے فرمایا:’’لا ادری (میں نہیں جانتا)۔‘‘وہاں موجود لوگ یہ سن کر حیران رہ گئے۔ وہ محدث باری باری ان کے سامنے احادیث پڑھنے لگے۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ ان کی ہر حدیث کے جواب میں ایک ہی جواب دیتے کہ میں نہیں جانتا۔امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ گو اس وقت نو عمر تھے، لیکن قوت حافظہ اور حدیث دانی کی دھاک لوگوں پر بیٹھ چکی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہاں بہت سے لوگ جمع ہو گئے تھے۔ ادھر امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ ہر حدیث کے جواب میں لاادری یعنی میں نہیں جانتا، کہہ رہے تھے۔ وہ حیران و پریشان تھے۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ محدثین کو کوئی جواب کیوں نہیں دے رہے۔جب وہ دس محدث اپنی سو احادیث پڑھ چکے تو امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ گویا ہوئے ’’سنئے! اب آپ کی احادیث میں پڑھتا ہوں۔‘‘آپ نے سو کی سو احادیث صحیح سند اور متن کے ساتھ سنا دیں۔ زیادہ حیرت کی بات یہ ہے کہ امام باری رحمتہ اللہ علیہ نے ان حضرات کی سنائی ہوئی غلط احادیث بھی اسی ترتیب کے ساتھ سنا کر بعد میں ان کی اصلاح کی۔ واقعی حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے غضب کا حافظہ پایا تھا۔



















































