ہارون الرشید نے اپنی ملکہ زبیدہ سے کسی بات پر ناراض ہو کر قسم کھا لی کہ ’’اگر تو آج رات میری ملکیت میں گزارے تو تجھے تین طلاق۔‘‘غصہ ٹھنڈا ہونے پر پچھتایا۔ امام ابو یوسف کو بلا کر کوئی ایسی تدبیر دریافت کی کہ طلاق نہ ہو۔ امام صاحب نے جواب دیا کہ ’’زبیدہ سے کہئے کہ وہ آج کی رات مسجد میں گزارے، اس لیے کہ مسجدیں اللہ کے سوا کسی کی ملکیت نہیں ہوتی۔
اللہ کا ارشاد ہے: وان المساجد للہ (مسجدیں اللہ کی ملکیت ہیں)۔‘‘
نیک مرد کی دعا
ایک آدمی نے مطرف بن عبداللہ رحمتہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹی تہمت لگائی تو مطرف نے دعا کی ’’یا اللہ! اگر یہ کاذب ہے تو اسے فی الفور موت دے دے۔‘‘ وہ اسی وقت مر گیا اور لوگ اسے دیکھتے رہ گئے۔ پھر لوگ مطرف کو چمٹ گئے اور حاکم بصرہ کے پاس لائے اور واقعہ بیان کیا۔ جب حاکم نے سنا تو کہنے لگا ’’یہ نیک مرد کی دعا ہے جو اس شخص کی موت کے ٹھیک وقت پر صاد ہوئی۔‘‘
زندگی قیمتی بنانے کا طریقہ
سب گناہوں سے توبہ کرکے یہ نیت کر لینی چاہیے کہ یا اللہ میں نے جو نیک کام کیا ہے یا کر رہا ہوں یا کروں گا سب آپ کی رضا کے لیے ہے۔ مہربانی فرما کر حقیقت میں نیکی شمار فرما کر قبول فرما لیں اور یا اللہ جو میں نے جائز کام کیا ہے یا کر رہا ہوں یا کروں گا وہ سب آپ کی رضا و عبادات کی تیاری کے لیے ہے۔ مہربانی فرما کر ان جائز کاموں کوبھی اچھی نیت کی وجہ سے نیک کاموں میں شامل فرما کر قبول فرما لیں۔ اس نیت سے انشاء اللہ چوبیس گھنٹے نیکی میں شمار ہو سکتے ہیں۔
کھانے پینے، پہننے اور جائز ملازمت کرنے، بلکہ بیت الخلاء تک جانے میں نیکیاں ہی نیکیاں لکھی جاتی رہیں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس لیے کہ جائز کام کو اچھی نیت کرکے نیک کام بنایا جا سکتا ہے۔ اور نیک کام میں تازہ خالص نیت کرتے رہنا چاہیے۔ باقی رہے گناہ کے کام تو ان سے فوری طور پر بچنا ہی بچنا ہے۔ گناہ کے کام میں کوئی اچھی نیت نہیں چلتی اور وہ ہر حال میں چھوڑنا ہی ہیں۔



















































