حضرت حاتم اصم رحمتہ اللہ علیہ کو اصم (بہرا) کہنے کی وجہ بڑی ایمان افروز ہے۔ وہ یہ کہ ایک مرتبہ ایک عورت آپ کے سامنے آئی اور آپ سے مسئلہ دریافت کیا۔ اتفاقاً اس کی ہوا نکل گئی اور وہ بڑی شرمندہ ہوئی۔ آپ نے بلند آواز سے کہا ’’کیا کہتی ہو؟ سنائی نہیں دے رہا۔ میرے کان بہرے ہیں۔‘‘آپ کا یہ کہنا اس لیے تھا کہ وہ شرمندہ نہ ہو۔
آپ نے اس مسئلے کا جواب دیا اور عورت کو یہی معلوم ہوا کہ آپ نے ہوا کی آواز نہیں سنی ہے۔
جھوٹ نہ بولو، اللہ سے ڈرو
حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے خلیفہ بابا نجم احسن رحمتہ اللہ علیہ نے یہ واقعہ سنایا کہ حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے ایک خادم تھے جن کا نام ’’بھائی نیاز‘‘ تھا۔ وہ حضرت کے بہت قریب رہتے تھے، اس وجہ سے ذرا منہ چڑھے خادم تھے اور جو کسی بڑے کا منہ چڑھا ہوتاہے وہ دوسروں پر ناز بھی کیا کرتا ہے، بقول کسی کے:بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا۔شاہ کا مصاحب دوسروں پر ناز کرتا ہے۔ اس لیے حضرت والا کے پاس جو آنے جانے والے مہمان ہوتے، بعض اوقات ان کے ساتھ نامناسب انداز میں پیش آتے۔ حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کو اس کی اطلاع ہو گئی کہ یہ بھائی نیاز آنے جانے والوں کے ساتھ درشتی کا معاملہ کرتے ہیں۔ حضرت نے ان کو بلایا اور سخت لفظوں میں ان سے کہا ’’میاں نیاز! تم آنے والوں کے ساتھ لڑتے جھگڑتے رہتے ہو اور ان کے ساتھ بے تہذیبی سے بات کرتے ہو۔‘‘جواب میں انہوں نے کہا ’’حضرت! جھوٹ نہ بولو، اللہ سے ڈرو۔‘‘دیکھئے کہ ایک نوکر اور خادم اپنے آقا سے کہہ رہا ہے کہ ’’جھوٹ نہ بولو، اللہ سے ڈرو‘‘
اس وقت تو اور زیادہ اس نوکر کو ڈانٹنا چاہیے تھا لیکن حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ ’’استغفراللہ، استغفراللہ‘‘ کہتے ہوئے دوسری طرف چلے گئے۔میں نے یکطرفہ بات سن کر ڈانٹا۔بعد میں لوگوں کے سوال کرنے پر حضرت والا نے بتایا کہ ’’جب بھائی نیاز نے مجھ سے کہا کہ ’’جھوٹ نہ بولو، اللہ سے ڈرو‘‘۔ اس وقت مجھے تنبہ ہوا کہ میں نے یکطرفہ بیان سن کر ان کو ڈانٹنا شروع کردیاتھا،
ابھی میں نے صرف لوگوں کی بات سنی تھی کہ انہوں نے لوگوں کے ساتھ یہ زیادتی کی ہے، مجھے یہ چاہیے تھا کہ میں ان کا بیان بھی سنتا اور ان سے پوچھتا کہ لوگ تمہارے بارے میں یہ کہہ رہے ہیں، بتاؤ! یہ صحیح ہے یا غلط ہے؟ ان کے بیان کو سننے کے بعد ڈانٹنے کا فیصلہ کرتا، لیکن میں نے یکطرفہ بات پر ڈانٹنا شروع کردیا، اس وجہ سے مجھ سے غلطی ہوئی، اس لیے میں استغغار کرتا ہوا چلا گیا۔‘‘
خیالات کا لانا گناہ ہے
حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کو کسی نے خط میں لکھا کہ ’’حضرت! جب میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں تو طرح طرح کے خیالات آتے رہتے ہیں اور اس کی وجہ سے پریشانی ہوتی ہے کہ میری نماز تو کچھ بھی نہیں۔‘‘حضرت نے اس کے جواب میں لکھا کہ ’’خیالات کا آنا گناہ نہیں، خیالات کا لانا گناہ ہے۔‘‘یعنی اگر وہ خیالات خود بخود آ رہے ہیں تو یہ گناہ نہیں ہے، ہاں جان بوجھ کر ارادہ کرکے دل میں خیالات لا رہے ہیں تو یہ گناہ ہے۔



















































