آپ ذرا اس آدمی کو دیکھیں جو دمہ (Asthma) کا مریض ہو۔ ہم نے ایسے مریضوں کو دیکھاہے۔ ان بے چاروں کی اندر کی سانس اندر اور باہر کی باہر رہتی ہے۔ ان کی حالت بالکل ایسے ہوتی ہے جیسے مرغ نیم بسمل کی تڑپتے وقت ہوتی ہے۔ سانس ان کے قابو میں نہیں ہوتی۔ گویا سانس کا آرام سے اندر چلے جانا اور پھر اندر سے آرام سے باہر آ جانا اللہ رب العزت کی بہت بڑی نعمت ہے۔
ایسے مریضوں نے اپنے پاس پمپ رکھے ہوتے ہیں۔ ذرا سی گرد یا مٹی آ جائے تو پمپ لگا لیتے ہیں اور کہتے ہیں جی کہ کیا کریں، سانس اکھڑ جاتا ہے۔
دوائی کا برتن سونگھ کر نسخہ تیار کرنا
خلیل بن احمد رحمتہ اللہ علیہ انسانی تاریخ کے ذہین اور اختراعی صلاحیت کے حامل لوگوں میں سے ایک تھے، لکھا ہے کہ ایک مرتبہ آنکھ کی کسی خاص بیماری کی دوا بنانے والا طبیب انتقال کر گیا۔ لوگوں کو اس دوا کی بڑی ضرورت پڑی، خلیل رحمتہ اللہ علیہ نے کہا ’’کسی کے پاس اس دوا کا نسخہ ہے؟‘‘لوگوں نے کہا ’’نہیں۔‘‘تو وہ برتن منگوایا جس میں دوا بنائی جاتی تھی۔ چنانچہ سونگھتے سونگھتے برتن سے اس دوا کا ایک ایک جز نکالتے رہے۔ یہاں تک کہ پندرہ اجزاء اس طرح نکال کر جمع کر دئیے۔ ان پندرہ اجزاء کی تعین کے بعد دوا بنائی اور حسب سابق لوگوں کو اس سے نفع ہوا۔ اتفاقاً بعد میں اس کا لکھا ہوا نسخہ اس طبیب کے کتب خانے سے مل گیا۔ دیکھا تو اس میں سولہ اجزاء تھے۔ خلیل رحمتہ اللہ علیہ سے صرف ایک جز رہ گیاتھا۔
یہ آدمی نہیں ہیں
ایک بزرگ کہیں جا رہے تھے۔ انہوں نے شیطان کو ننگا دیکھا۔ انہوں نے کہا ’’او مردود! تجھے آدمیوں کے درمیان اس طرح چلتے شرم نہیں آتی۔‘‘ وہ کہنے لگا۔ ’’خدا کی قسم! یہ آدمی نہیں ہیں، اگر یہ آدمی ہوتے تو میں ان کے ساتھ اس طرح نہ کھیلتا جس طرح لڑکے گیند سے کھیلتے ہیں آدمی تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے ذکر اللہ کے ذریعے میرے بدن کو بیمار کیا ہوا ہے۔‘‘



















































