مسجد میں کچھ افراد عصر پڑھ کر بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا اور بولا.. “جناب ! امام صاحب کہاں ہیں..؟” امام صاحب اٹھے اور بولے.. “ہاں بیٹا کہو’ کیا کام ہے؟” وہ لڑکا بولا.. “ہمارے پڑوسی کا برا حال ہے۔ تین دن سے عالم نزع میں ہے۔ چل کر کچھ دعا ‘ کچھ کلمہ پڑھ دیں کہ اس کے لئے آسانی ہو۔ وہ لوگ وہاں سے اٹھے اور اس شخص کے گھر پہنچے۔
دیکھا ایک دبلا پتلا سا ادھیڑ عمر شخص تھا اور بےحد بیقرار تھا۔ کبھی ایک پاوں اٹھاتا ‘ کبھی دوسرا۔ کبھی دائیں کروٹ لیتا ‘ کبھی بائیں۔ کبھی دروازے کو دیکھتا ‘ کبھی چھت کو تکتا۔ زبان سے سوائے ہائے ہائے کے کچھ نہیں بول رہا تھا۔ امام صاحب اس کی پیشانی پر ہاتھ رکھا اور کچھ پڑھتے رہے۔ پھر باآواز بلند کلمہ پڑھا اور اس شخص سے کہا۔۔ “کلمہ پڑھو لا الہ الا اللہ۔۔” وہ شخص کچھ دیر تو سنتا رہا۔ بے چینی کا وہی عالم تھا۔ امام صاحب پھر بولے۔۔ ” پڑھو لا الہ الا اللہ۔۔” اچانک وہ شخص چلا اٹھا۔۔ “آلو 40 روپے کلو، ٹنڈے 50 روپے کلو، دھنیا 10 روپے کلو، بینگن 30 روپے کلو” بس وہ یہی کہے جا رہا تھا۔ جوں ہی وہ کلمہ پڑھتے’ سبزیوں کے ریٹ بتانے لگتا۔ بیوی سے معلوم کروایا کہ ماجرا کیا ہے تو پتا چلا کہ وہ ایک سبزی فروش ہے۔ ساری زندگی جو صدا لگائی وہی زبان سے جاری ہو رہا تھا۔ استغفر اللہ انسان زندگی بھر جو کہتا ہے جو کرتا ہے جو بولتا ہے جو سوچتا ہے مرتے دم تک وہی زبان سے جاری ہوتا ہے۔ یا اللہ ! ھمیں زندگی میں اور مرتے وقت کلمہ پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔۔ آمین یا رب العالمین۔۔



















































