بارش کا ایک ننھا سا قطرہ آسمان سے ٹپکا اور دریا میں آ گرا۔ اُسے دریا کی وسعت اور گہرائی کا اندازہ ہوا تو اپنی ذات بہت ہی حقیر نظر آئی۔ وہ سوچنے لگا “اتنے بڑے دریا کے مقابلے میں بھلا میری کیا ہستی ہے؟؟، میں کسی شمار میں ہی نہیں آ سکتا، باقی رہوں تو کیا، فنا ہو جاؤں تو کیا۔۔۔!” قطرے نے
جب اپنے ہی آپ میں عاجزی اور انکساری سے یہ باتیں سوچیں تو ایک صدف نے منہ کھول کر اُسے اپنے اندر لے لیا اور پھر ایک عرصے تک اُسکی پرورش کر کے ایک قیمتی موتی بنا دیا۔ یقیناً یہ اعزاز اور مرتبہ اُسے اِس لیے ملا کہ اُس نے اپنی ذات میں عاجزی پیدا کی اور خود کو حقیر جانا



















































