باب دل (ابوعبداللہ) قصر الحمرہ جو دنیا کا ایک عجوبہ ہے کی چابیاں ازابیل کو پیش کرنے کے بعد اپنے گھروالوں کے ساتھ غرناطہ کے پہاڑی سلسلہ کی جانب روانہ ہونے کے بعد ایک اونچے مقام پر پہنچ کر ایک نظر وادی غرناطہ کے خوبصورت باغات پر ڈالتا ہے تو آنسو اس کی آنکھوں سے بہہ نکلتے ہیں۔
اس کی ماں جو قریب ہی کھڑی دیکھ رہی ہے وہ اسے مخاطب ہو کر کہتی ہے ابو عبداللہ جس سلطنت کو مردوں کی طرح کی لڑ کر تم بچا نہی سکے اب اس کے چھن جانے پر عورتوں کی طرح بین کیوں کررہے ہو۔ قصر الحمرا کی چابیاں حوالہ کرنے کی تقریب سے پہلے عیسائی ملکہ ازابیل اور اسکے پیشتروں کی ایک طویل جہدوجہد تھی جہنوں نے اندلس کے مختلف علاقوں کے حکمرانوں کو ایک ایک کر کے شکست دیتے ہوئے آخری حفاظتی دیوار غرناطہ کو فتح کیا۔ بیسویں صدی میں سلطنت پاکستان کا معرض وجود میں آنا ایک معجزہ تھا دنیا کی سب سے بڑی اسلامی جمہوری سلطنت کا قیام لیکن ہمارے حکمرانوں کی غفلتوں نے صرف ستائیس سال بعد ہی اسے دو ٹکڑے کر دیا۔ ابو عبداللہ کی طرح جنرل نیازی نے ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں اپنا پسٹل جنرل اروڑہ کے سامنے پیش کیا۔ سقوط غرناطہ سے سبق حاصل کیا ہوتا تو سقوط ڈھاکہ کا دن شاید نہ آتا۔ ہماری قوم کے ذہنوں سے سقوط غرناطہ اور سقوط ڈھاکہ آہستہ آہستہ محو ہوتے جا رہے ہیں نئی نسل کو تاریخ کے یہ اہم واقعات ضرور پڑھانے چائیں تاکہ آئیندہ وہ غلطیاں نہ دہرائیں جن کی وجہ سے پھر شرمندگی اور حسرت کے آنسو بہانے پڑیں۔



















































