اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی امام یوسف رحمتہ اللہ علیہ کو بیش بہا نصیحتیں اور وصیتیں

datetime 6  مئی‬‮  2017 |

حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے اسم گرامی سے کون واقف نہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ بڑے اولوالعزم بزرگ، بیدار مغز، حاضر جواب، متقی، پرہیزگار اور صاحب علم و عمل رہنما تھے۔ اب آپ کی خدمت اقدس میں حضرت امام اعظم رحمتہ اللہ علیہ کی کچھ نصیحتیں اور وصیتیں پیش کرتا ہوں، جو انہوں نے اپنے شاگرد رشید یوسف بن خالد سمنی بصری کو کی تھیں۔

یہ نصیحتیں اور وصیتیں آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔حضرت یوسف بن خالد سمنی بصری نے جب امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ سے علم حاصل کیا اور اپنے شہر بصرہ کو واپسی کا ارادہ کیا توامام اعظم رحمتہ اللہ علیہ سے اجازت چاہی۔ حضرت نے ارشاد فرمایا کہ:’’جانے میں جلدی نہ کرو، کچھ تو انتظار کرو، یہاں تک کہ تم کو ایسی وصیت کروں جس کی تم کو لوگوں سے ملاقات رکھنے، اہل علم کے مرتبے کو پہچاننے، اپنے نفس کو آداب زندگی پر ڈالنے، ماتحتوں سے مناسب طریقے سے برتاؤ کرنے، خاص و عام کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے اور لوگوں کے حالات سے باخبر رہنے میں ضرورت پڑے گی۔ میری وصیت کو لے کر جب تم باہر نکلو گے تو تمہارے ساتھ اس نصیحت کا ایک آلہ ہو گا جس کی علم کو بہت ہی ضرورت ہے اور وہ علم کو چار چاند لگائے گا اور اسے یہ عیب دار ہونے سے محفوظ رکھے گا۔‘‘اس کے بعد فرمایا ’’صبر کرو، یہاں تک کہ میں آپ کو تفصیلی وصیت کرنے کے لیے فرصت کا وقت نکال لوں اور اپنی فکر کوتمہاری طرف پوری طرح متوجہ کر سکوں اور تم کو ایسی بات بتا دوں، جس کی وجہ سے تم اپنے دل میں میرے شکر گزار رہو گے۔‘‘حضرت یوسف بن خالد فرماتے ہیں کہ جب اتنا وقت گزر گیا، جس کے گزر جانے پر وصیت کرنے کا وعدہ کیا تھا تو مجھ کو تنہائی میں وقت دیا اور فرمایا کہ ’’میں اب تم کو وہ تمام باتیں کھول کر تفصیل سے بتا دیتا ہوں، جن کے لیے میں تمہارے واپس جانے میں مزاحم ہوں۔

وہ منظر گویا میری آنکھوں کے سامنے ہے، جب تم بصرہ داخل ہو گے اور تمہارے مخالفین تمہاری طرف متوجہ ہوں گے اور اس وقت تم اپنے نفس کو (علم کے غرور) میں ان کے مقابلے میں بلند کرو گے اور علم کے ذریعے سے ان کے سامنے بطورفکر بڑھ چڑھ کر بولنے والے بنو گے (جس کے نتیجہ میں یہ ہوگا) تم ان کے پاس اٹھنے بیٹھنے اور ساتھ رہنے سے دلبرداشتہ ہو جاؤ گے۔

تم ان کے مخالف ہو جاؤ گے اور وہ تمہارے مخالف ہو جائیں گے اور پھر تم ان سے تعلقات ختم کرو گے اور پھر تم ان لوگوں سے خراب الفاظ میں بات کرو گے اور وہ تمہیں خراب لفظوں میں یاد کریں گے۔ تم ان لوگوں کوگمراہ کہو گے اور وہ تمہارے راستے کو غلط بتائیں گے۔ وہ سب تم کو بدعت کی طرف منسوب کریں گے۔ان تمام باتوں کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم اور تم دونوں کی ذاتوں پر عیب لگایا جائے گا۔

آخر نتیجہ یہ نکلے گا کہ تم لوگوں کو چھوڑ کر کسی اورمقام پر چلے جانے پر مجبور ہوجاؤ گے۔ لیکن یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ آدمی ایسے حالات پیدا کرے، جن کی وجہ سے خاص وعام میں نہ رہ سکے۔ ہوشیاری اور عقلمندی کی بات یہ ہے کہ میل جول اور اچھے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرنی ہے، کیونکہ وہ عقلمند نہیں ہے جو ایسے شخص سے نبھانے کا خیال نہ رکھے، جس کے ساتھ نبھانا ضروری ہو۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے کوئی راہ نکالے۔

جب تم بصرہ میں داخل ہوگے تو وہاں کے لوگ تمہارا خیرمقدم کریں گے اور تمہاری زیارت کو آئیں گے اور تمہارا حق پہچانیں گے، اس وقت تم بصرہ میں داخل ہو گے تو وہاں کے لوگ تمہارا خیرمقدم کریں گے اور تمہاری زیارت کو آئیں گے اور تمہارا حق پہچانیں گے، اس وقت تم ہر فرد کو اس کے مرتبے کے مطابق جگہ دینا اور شریفوں کی عزت کرنا، اہل علم کی تعظیم کرنا، بوڑھوں کا ادب کرنا، نوعمروں اور نوجوانوں کے ساتھ لطف سے پیش آنا۔

عوام کے نزدیک ہونا بدکرداروں کی مدارت کرنا، اچھے افراد کی صحبت اختیار کرنا، صاحب اقتدار، بادشاہ، قاضی وغیرہ سے (قول و عمل میں) اس طرح پیش آنا جس طرح وہ ایک معمولی فرد سمجھے جائیں، کسی کو کبھی حقیر مت سمجھنا، مروت میں کوتاہی مت کرنا، اپنا بھید کسی پر ظاہر نہ ہونے دینا، کسی کی دوستی پر بغیر امتحان کے بھروسہ نہ کرنا۔کسی کمینے اور خبیث شخص سے دوستی نہ کرنا اور اس شے سے الفت نہ رکھنا جو تمہارے ظاہرکو حال کے مطابق نہ سمجھتی ہو۔

بے وقوف دوستوں سے بے تکلفی نہ برتنا، خوش خلقی اور سینے کی کشادگی کو لازم کرلینا، نئے کپڑوں کو استعمال کرنا۔ اپنی ذاتی ضرورتوں کو تنہائی کاوقت نکال کر پورا کرنا۔ اپنے خادموں اور ماتحت کے معاملات کی ٹوہ میں لگے رہنا اور اس سلسلے میں تم ان کے ساتھ نرمی کے ساتھ پیش آتے رہنا۔ ڈانٹ ڈپٹ زیادہ نہ کرنا، ورنہ بے اثر ہو جائیں گے۔ (یعنی وہ ڈھیٹ ہو جائے گا) اور ان کو اپنے ہاتھ سے سزا نہ دینا اس سے تیرا وقار دیرپا رہے گااور اپنی نمازیں پابندی سے ادا کرتے رہنا

اور اپنے عزیز و اقارب کی دعوتیں کرتے رہنا، کیونکہ ایک بخیل کبھی سرداری کے قابل نہیں ہو سکتا۔ تیرا ایک خاص مشیر کار بھی ہونا چاہیے جو لوگوں کے حالات سے تجھ کو باخبر کرتا رہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ جب تجھے کسی گڑبڑ کی اطلاع ملے گی تو اس کو ٹھیک کرنے کے لیے جلدی کرے گا اور جب کسی کام کی خوبی کاپتہ چلے گا تو اور زیادہ دلچسپی سے اس کام کو انجام دے گا۔

جو تجھ سے ملاقات کرنے آئے اور جو نہ آئے تو ان دونوں قسم کے افراد کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا اور ان سے ملاقات کرنے جانا اور جو شخص تجھ سے اچھا یا برا برتاؤ کرے تو اس کے ساتھ اچھی طرح پیش آتے رہنا اور معاف کرتے رہنا اور ان کو نیکیوں کاحکم دیتے رہنا اور کبھی غافل نہ رہنا، جو تجھ کو تکلیف دے یا پریشان کرے اسے چھوڑ دینا، بدلہ لینے کی کوشش مت کرنا۔ جو ملاقاتی بیمار ہو جائے،

یا کسی پریشانی میں مبتلا ہو جائے تو بذات خود اس کی مزاج پرسی کرنے ضرور جانااوراپنے قاصدوں کے ذریعے ان کے حالات کی خبر رکھنا۔ اگر کوئی شخص (ملاقاتی) آنا بند کر دے تو اس کے حالات کی تفتیش کرتے رہنا اور اگر کوئی شخص تیرے بارے میں خراب الفاظ نکالے یا گالی دے تو اس کے بارے میں اچھی باتیں کرنا۔اگر کوئی شخص انتقال کر جائے (اور اگر اس کا حق تیرے ذمے ہو) تو اس کاحق اس کے وارثوں کو ادا کر دینا۔

جس کسی کے گھر میں کوئی خوشی ہو تو اس کو مبارکباد دینا اور مصیبت میں گرفتار ہوجائے تو اس کو تسلی دینا۔ اگر کوئی شخص اپنے کام کے لیے تجھ کو اپنے ساتھ لے جانا چاہے تو اس کے ساتھ جانے کے لیے کھڑے ہو جانا۔ جہاں تک ہو سکے لوگوں کے سامنے دوستی ظاہر کرنا، جب کسی دوسرے کے ساتھ کسی محفل یا مجلس میں بیٹھے یا کسی مسجد میں لوگوں کے ساتھ تیری ملاقات ہو اور سوالات ہونے شروع ہو جائیں اور ان کے سوالات تیرے مسلک کے خلاف ہوں تو جلدی سے اپنی رائے کا اظہار مت کرنا۔

لوگ جو کام تجھ سے نہ لیں، اس میں دخل اندازی مت کرنا، لوگوں کے لیے اس حالت پر تیار یا راضی نہ ہو جانا جس پر وہ اپنے نفسوں کے ساتھ راضی ہوں۔ ان کی طرف سے اپنی نیت کو صاف رکھنا۔ سچائی کو ہمیشہ کام میں لانا اور غرور اور تکبر ایک طرف پھینک دینا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ غرور و تکبر کو پسند نہیں کرتا اور کبھی کسی کو دھوکہ یا فریب مت دینا۔ اگرچہ لوگ تجھ سے خیانت کا برتاؤ بھی کریں اور اگر کسی سے کوئی عہد یا وعدہ کرو تو اس کو پورا کرنا اور پرہیز گاری کو اپنے ہاتھ سے نہ جانے دینا۔

دوسرے مذاہب والوں سے مناسب معاشرتی آداب کے ساتھ پیش آنا۔‘‘ان نصیحتوں کے بعد حضرت امام صاحب نے اپنے شاگرد عزیز سے فرمایا کہ ’’بے شک تو اگر میری ان نصیحتوں کو مضبوطی سے پکڑے گا تو میں امید کرتا ہوں کہ (تو سب خرابیوں اورمصیبتوں سے) محفوظ رہے گا۔ اس کے بعد فرمایا کہ ’’مجھ کو تیری جدائی سے رنج و غم ہے اور تجھ سے جو جان پہچان ہے وہ میرے لیے انس کا ذریعہ ہے۔ تو اپنے خطوط کے ذریعے مجھ سے تعلق باقی رکھنا اور اپنی ضروریات و حاجات سے مطلع کرتے رہنا اور اس بارے میں تو میرے لیے ایک بیٹے کی مانند ہے اور میں باپ کی طرح ہوں۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…