جب حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ دارالعلوم دیوبند میں پڑھ رہے تھے تو طالب علمی کے دوران حضرت کے چار معمولات تھے:پہلا تو یہ تھا کہ انہوں نے اپنے لیے کچھ ساتھی منتخب کر لیے تھے اور ان سے معاہدہ کر لیاتھا کہ نمازعشاء کے بعد نہ تکرار کریں گے نہ مطالعہ کریں گے، بلکہ فوراً سو جائیں گے اور اخیر شب میں اٹھ کر تہجد پڑھیں گے اور اس کے بعد مطالعہ تکرار کریں گے۔
چنانچہ ان کے سب ساتھی اس کے پابند ہو گئے۔دوسرا معمول یہ تھا کہ منڈی میں جو دارالعلوم کا بازار ہے وہاں چوراہے پر تحصیل کے سامنے عصر کی نماز کے بعد روزانہ وعظ فرماتے تھے۔ قرآن شریف کی تلاوت فرماتے اور ہر روز پابندی سے وعظ فرماتے۔ ایک آدمی آ جائے جب بھی اور دس آدمی آ جائیں جب بھی۔ سردی پڑ رہی ہو یا گرمی، بلاناغہ ہمیشہ وعظ کرنے کا معمول تھا۔ اسی لیے حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے طالب علمی کے زمانے میں پورے قرآن کریم کا وعظ وہاں سنایا۔تیسرا معمول یہ تھا کہ جمعہ کا دن اساتذہ کرام کی خدمت میں حاضری کے لیے منتخب کر رکھا تھا۔ مولانا محمد یعقوب صاحب کی خدمت میں ایک گھنٹہ، مولانا سید احمد دہلوی صاحب کی خدمت میں ایک گھنٹہ اور مولانا منفعت علی صاحب کی خدمت میں ایک گھنٹہ۔ غرض جتنے اساتذہ تھے، جمعہ سے پہلے ایک ایک گھنٹہ ان کی خدمت میں حاضر ہونا ضروری تھا اور یہ اپنے اساتذہ کی خدمت میں حاضر ہو کر فرمایا کرتے کہ میرے متعلق جو خدمت ہو میں حاضر ہوں، اور بعض اوقات اساتذہ کرام نے جو کام بتا دیا وہ کام کر دیا اور اگر کوئی علمی بات کسی استاد سے معلوم کرنی ہوتی یا کوئی مسئلہ پوچھنا وہتا تو پوچھ لیا کرتے۔چوتھا معمول یہ تھا کہ حجرے میں ایک گھڑا رکھ چھوڑا تھا۔ جو خط آتا بغیر پڑھے اسی گھڑے میں ڈال دیا کرتے۔
ایک سال میں جو دس بیس خط جمع ہو جاتے ان کو سالانہ امتحان سے فارغ ہو کر پڑھتے کسی میں یہ لکھا ہوتا کہ فلاں کا انتقال ہو گیا۔ فلاں کے ہاں بچہ پیدا ہوا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ پھر تھانہ بھون پہنچ کر کسی کے یہاں تعزیت کے لیے حاضر ہوتے اور کسی کے ہاں مبارکباد کے لیے۔سب لوگ کہتے کہ ’’بھائی ہم نے خط لکھا تھا، مگر تم نے جواب بھی نہیں دیا۔‘‘تو حضرت فرماتے کہ ’’میں پڑھنے گیاتھا، کتابیں پڑھنا میرا موضوع تھا، خط پڑھنا میرا موضوع نہیں تھا۔ میں خطوط کو گھڑے میں ڈال دیتا تھا۔ اب سالانہ امتحان سے فارغ ہو کر ان کو پڑھا، اب میں خدمت میں حاضر ہوں۔‘‘



















































