حال ہی میں روزنامہ اسلام میں حضرت مولانا زاہد الراشدی زیدمجدہ کا ایک مضمون ’’حفاظت قرآن کا انتظام‘‘ کے عنوان کے تحت شائع ہوا۔ جس میں انہوں نے فرمایا کہ چند نوجوانوں نے ان سے ملاقات کرکے اس بات پر پریشانی کا اظہار کیا کہ مختلف غیر مسلم گروپوں نے قرآن کے حوالے سے انٹرنیٹ پر ویب سائٹس بنا رکھی ہیں۔
جن پر وہ قرآن کریم کی سورتوں اور آیات کے ساتھ ملتی جلتی سورتیں اور آیات اپنی طرف سے گھڑ کر قرآنی آیات اور سورتوں کے ساتھ خلط ملط کر رہے ہیں۔ جس سے ایک ناواقف شخص الجھن اور دھوکے کا شکار ہو جاتا ہے۔مولانا نے اس کے جواب میں انہیں تسلی دی اور فرمایا کہ ایسے بیسیوں گروپ بھی وجود میں آ جائیں تو انشاء اللہ قرآن کریم کی صحت و حفاظت میں سرمو فرق نہیں آئے گا اور ان ابلیسی ہتھکنڈوں کے توڑ کے لیے دس بارہ سال کا ایک حافظ قرآن مسلمان بچہ ہی کافی ہے۔ جو چند گھنٹوں میں پورے قرآن کریم کی چھانٹی کرکے بتا دے گا کہ یہ سورۃ صحیح ہے، یہ جعلی ہے۔ یہ آیت درست ہے یہ جعلی ہے۔ اس آیت میں یہ لفظ صحیح ہے، یہ جعلی ہے۔حق تعالیٰ شانہ نے قرآن کریم کی حفاظت کا ایسا تکوینی انتظام فرمایا ہے کہ کوئی جدید سے جدید ترین سائنسی ایجاد، شیطانی حربہ یا سازش قرآن کریم کے کسی لفظ، حرف، زبر، زیر، پیش میں رد و بدل نہیں کر سکتی۔ یہ دور انٹرنیٹ کا دور ہے۔ جب انگریز شروع شروع میں برصغیر میں آئے تو زیادہ تر قرآن کریم کے قلمی نسخوں کا رواج تھا، اس وقت انہوں نے سوچا کہ اگر ہم تمام قلمی نسخے مسلمانوں سے خرید کر تلف کر دیں اورتحریف شدہ نسخے پھیلا دیں تو مسلمانوں کا حفاظت قرآن کا دعویٰ غط ثابت ہو جائے گا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے عام قیمت سے کئی گنا زیادہ قیمت پر قرآن کریم کے نسخوں کو خریدنا شروع کر دیا۔
سادہ لوح مسلمان پادریوں کے ہاتھوں دھڑا دھڑ قرآن کریم فروخت کرنے لگے۔اس زمانے کے ایک عالم دین مولانا باقر علی صاحب نے پادریوں کو کہا کہ قرآن کریم کے نسخوں کو تلف کرنا تمہاری مطلب براری نہیں کر سکتا۔ یہ فرما کر ایک دس سالہ بچے کو بلوایا اور مختلف مقامات سے قرآن کریم زبانی پڑھوایا۔ پھر آٹھ سال کے بچے سے سنوایا اور آخر میں ایک سات سالہ حافظ قرآن بچے کو پیش کیا۔
اس وقت پادریوں کو اپنی حماقت کا احساس ہوا اور انہوں نے قرآن کریم کے نسخے تلف کرنے کا بے ہودہ مشغلہ ترک کر دیا۔بے شک حق تعالیٰ شانہ اس پر قادر ہے کہ جس طرح آسمان پر ستارے چمکتے ہیں، اسی طرح قرآن کریم کو چمکتے ہوئے الفاظ میں آسمان پر محفوظ فرما دیں۔ مگر حفاظت کے موجودہ نظام سے کمال قدرت کا زیادہ اظہار ہوتاہے کہ ہر زمانے میں دشمنان اسلام کی کثرت کے باوجود اور ہر قسم کی سازشوں کے باوجود حق تعالیٰ شانہ نے محیرالعقول طریق سے قرآن کریم کی حفاظت فرمائی۔حفاظت قرآن کا ایک ایمان افروز واقعہ حافظ لدھیانوی مرحوم نے 1970ء میں تحریر فرمایا تھا۔
جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے قرآن کریم کو لاکھوں زندہ انسانوں کے سینوں میں اس طرح محفوظ فرما دیا ہے کہ وہ اپنے وجود و بقا میں ظاہری اسباب کتابت و طباعت وغیرہ سے کوسوں بالا تر ہے۔ حافظ صاحب فرماتے ہیں کہ:ایک دفعہ میں اور حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمتہ اللہ علیہ گاڑی میں ہم سفر تھے۔ شعر و شاعری ہوتی رہی، شاعری سے بات حفظ قرآن کریم پر شروع ہوئی تو شاہ صاحب نے دریافت فرمایا کہ ’’آپ نے قرآن کریم کس سے حفظ کیا؟‘‘
میں نے عرض کیا ’’اپنے والد محترم سے۔‘‘شاہ صاحب نے پھر پوچھا ’’اور آپ کے والد محترم نے؟‘‘عرض کیا کہ ’’حافظ قاسم صاحب۔‘‘حافظ محمد قاسم صاحب کا نام سن کر حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ ’’حافظ محمد قاسم صاحب جیسے جید حفاظ تاریخ میں خال خال پیدا ہوئے ہیں۔‘‘اس پرحافظ لدھیانوی جو اپنے والد مرحوم سے حافظ محمد قاسم صاحب کے بہت سے کمالات سن چکے تھے،
شاہ صاحب کی خدمت میں عرض کیا کہ ’’میرے والد مرحوم بتایا کرتے تھے کہ میرے استاد گرامی کو تمام عمر قرآن پاک کی تلاوت میں کبھی غلطی نہیں لگی اور نہ ہی تمام عمر انہوں نے کلام پاک کے کسی لفظ کو لوٹا کر پڑھا۔ حافظ صاحب رمضان المبارک میں لدھیانہ سے امرتسر تشریف لے جاتے اور وہیں تراویح پڑھاتے۔ بیسیوں حفاظ مختلف شہروں سے ان کے کلام پاک کی سماعت کے لیے آتے، مگر کبھی کسی حافظ نے حافظ محمد قاسم صاحب کو لقمہ نہیں دیا۔
یادداشت کا یہ عالم تھا کہ ایک گھنٹے میں ایک سیپارہ پڑھیں یا پانچ سیپاروں کی تلاوت کریں۔ حسن اور صحت حروف میں فرق نہیں آتا تھا۔ حفاظ جانتے تھے کہ معمولی یادداشت کا حافظ کم رفتار سے نہیں پڑھ سکتا، اگر پڑھے گا تو بے شمار غلطیاں کرے گا۔‘‘یہ سن کر حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ ’’لدھیانہ میں ایک بزرگ اور خدا رسیدہ شخص خواجہ احمد شاہ ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے ایک مرتبہ قرآن کریم کی کتابت کرائی۔ کتابت مکمل ہونے کے بعد تصحیح کا مسئلہ تھا۔
خواجہ صاحب کتابت شدہ قرآن کریم رئیس احرار مولانا حبیب الرحمن صاحب کے والد مولانا زکریا مرحوم کے پاس لائے۔ مولانا نے چھ ماہ میں قرآن کریم حفظ کیا تھا اور ان کا شمار جید حفاظ میں ہوتاتھا۔ خواجہ صاحب نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا تو مولانا فرمانے لگے کہ ’’اس کام کے لیے سارے ہندوستان میں ایک ہی حافظ ہیں اور وہ حافظ محمد قاسم ہیں۔ میں یہ کلام پاک ان کو سناؤں گا، اس کے بعد غلطی کا امکان نہیں رہے گا۔‘‘
چنانچہ مولانا زکریا حافظ صاحب کے پاس آئے اور عرض کیا کہ ’’میں کلام پاک پڑھتا جاتا ہوں، آپ سنتے جائیں، تاکہ اشاعت سے پہلے کتابت کی کوئی غلطی نہ رہے۔‘‘حافظ صاحب نے فرمایا کہ ’’کیا اس طرح قرآن کریم درست ہو جائے گا؟‘‘مولانا نے عرض کیا کہ آپ نابینا ہیں، اس کے علاوہ کوئی طریقہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘حافظ صاحب مسکرائے اور فرمایا ’’اور طریقہ بھی ہے وہ یہ کہ آپ کلام پاک دیکھتے جائیں،
میں اعراب (زیر، زبر، پیش) بولتا جاتا ہوں۔‘‘ اور بسم اللہ سے شروع ہو کر والناس تک صرف اعراب بولتے گئے، کوئی لفظ نہیں بولا۔ شاہ جی نے فرمایا کہ واقعہ سننے کے بعد مجھے یقین نہ آیا۔ میں مولانا زکریا صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے اس محیرالعقول واقعہ کی حرف بحرف تصدیق کی اور شہادت دی کہ یہ واقعہ میرے ساتھ گزرا ہے۔ واقعی حافظ محمد قاسم صاحب کو قرآن کریم ایسا یاد تھا، جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
شاہ جی نے فرمایا میں نے اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا۔ مگر ایسا واقعہ نہ سنا نہ پڑھا۔ایسے حفاظ قرآن کریم کا کیا کہنا جن کے قرآن کریم سے عشق کا یہ عالم ہو کہ قرآن کریم ان کے سانسوں کی مہک، روح کی غذا، زندگی کا جزو، آنکھوں کا نور اور دل کا سرور بن جائے اور جسم کے ریشے ریشے اور رگ رگ میں قرآن کریم کے انوار جاری و ساری ہو جائیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام سے محبت اور اس کی اطاعت کی دولت سے ہمیں بھی سرفراز فرمائیں۔



















































