اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایک ہاتھی کا عجیب و غریب قصہ

datetime 5  مئی‬‮  2017 |

بادشاہ بہادر شاہ ظفر خاندان مغلیہ کے آخری بادشاہ تھے۔ ان کی عمر کا آخری حصہ بڑا درد ناک رہا۔ انگریزوں نے انہیں گرفتار کیا، ان کے سامنے ان کے عزیز قتل کیے گئے اور انہیں قید و بند کی تاریکیوں میں پھینک دیا۔ ان کا ایک ہاتھی تھا، جس کا نام تھا مولا بخش۔مولا بخش ایک قدیم اور معمر ہاتھی تھا۔ اس نے کئی بادشاہوں کو سواری دی تھی۔ اس ہاتھی کی عادتیں بالکل انسان کی سی تھیں۔

قد و قامت میں ایسا بلند و بالا ہاتھی ہندوستان کی سرزمین میں نہ تھا اور نہ اب ہے۔ یہ ہاتھی جب بیٹھا ہوتا تو دوسرے ہاتھیوں کے پورے قد کے برابر ہوتا تھا۔ خوب صورتی میں اپنا جواب نہ رکھتا تھا۔ کسی آدمی کو سوائے فوج اور (پروٹوکول آفیسر) کے پاس نہ آنے دیتا تھا۔ جس دن بادشاہ کی سواری ہوتی تھی، اس سے ایک دن پہلے فوج دار جا کر حکم سنا دیتا کہ ’’میاں مولا بخش کل تمہاری نوکری ہے۔ ہوشیار ہو جاؤ۔ نہا دھو کر تیار ہو جاؤ۔‘‘جس وقت بادشاہ سلامت ہوا دار سواری میں نقار خانے (سلامی کا چبوترہ) کے دروازے سے برآمد ہوتے، مولا بخش چیخ مار کر تین سلام کرتا اور خود ہی بیٹھ جاتا۔ جس وقت تک بادشاہ سوار نہ ہو لیں اور خواص نہ بیٹھ جائیں، کیا مجال ہے کہ جنبش کر جائے۔ جب بادشاہ سوار ہو جاتا اور فوج دار اشارہ کرتاتو فوراً کھڑا ہو جاتا۔ مختصر یہ کہ جب سواری سے فرصت پاتا، پھر ویسا ہی مست ہوتا اور کسی کو قریب نہ آنے دیتا۔جب شاہی فیل خانہ پر انگریزوں کا قبضہ ہو گیا تو مولا بخش نے دانہ پانی چھوڑ دیا۔ فیل بان نے جا کر سانڈرس صاحب کو اطلاع دی کہ ہاتھی نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے۔ سانڈرس صاحب کو یقین نہ آیا۔ فیل بان کو گالیاں دیں اور کہا کہ ’’ہم خود چل کر اسے کھلائیں گے۔ اور وہ پانچ روپے (آج کل کے لحاظ سے ہزاروں روپے) کے لڈو اور کچھ کچوریاں ہمراہ لے کر ہاتھی کے تھان پر پہنچے اور شیرینی کا ٹوکرا ہاتھی کے آگے رکھوا دیا۔

ہاتھی نے جھلا کر ٹوکرے کو اس طرح مارا کہ اگر کسی آدمی کے لگتا تو کام تمام ہو جاتا۔ ٹوکرا دور جا گرا اور تمام شیرینی بکھر گئی۔سانڈرس صاحب بولے ’’ہاتھی باغی ہے، اسے نیلام کر دو۔‘‘چنانچہ اسی روز صدر بازار میں لا کر کھڑا کر دیا۔ لیکن کوئی خریدارنہ ہوا۔ ایک پنساری نے ڈھائی سو روپے کے بدلے خرید لیا۔ فیل بان نے ہاتھی سے کہا ’’لے بھائی، تمام عمر تو تو نے بادشاہوں کی نوکری کی، اب تقدیر پھوٹ گئی کہ ہلدی کی گرہ بیچنے والے کے دروازے تک چلنا پڑا۔‘‘ یہ سنتے ہی ہاتھی صدمے کی وجہ سے کھڑے کھڑے زمین پر گرا اور جاں بحق ہو گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…