دنیا بھر کے ادب میں چند ایک کہانیاں ایسی ہیں کہ جو تقریباَ دنیا کے ہر ملک میں ترجمہ کرکے یا پھر ان کو اپنے علاقوئی کرداروں میں ڈھال کر پڑھائی جاتی ہیں. ان میں ایک کہانی رابرٹ بروس کی ہے. یہ شخص 1306ءسے1329ءتک سکاٹ لینڈ کا بادشاہ رہا ہے. سکاٹ لینڈ جوآج بھی انگلینڈ سے اپنی علیحدگی کے لیے جدوجہد کر رہا ہے اس دور میں بھی انگلینڈ سے آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا
اور رابرٹ بروس اس کی پہلی جنگِ آزادی کا لازوال ہیرو تھا. اس نے برطانیہ کے بادشاہ ایڈورڈ اوّل کےسامنے ہتھیارڈالنے والے اپنے پیش رو کو قتل کیااور25مارچ 1306 کو سکاٹ لینڈ کے تخت وتاج کے وارث ہونے کا اعلان کردیا. ایڈورڈ اؤل کی برطانوی افواج نے اس پر حملہ کردیااوراسے شکست دے کر آئرلینڈکےجنگلات میں چھپنے پرمجبورکردیا. یہاںسے اس نے ایک کامیاب گوریلاجنگ کاآغاز کیا اور1307میں لوڈون پہاڑ کے قریب برطانوی افواج کو شکست دے دی. اس کے بعد وہ جنگیں لڑتا رہا اور جیتتا رہا اور تاریخ پر اپنا دائمی نقش چھوڑ گیا. بروس کے بارے میں ایک مختصرسی کہانی مشہور ہے. کہانی یوںہے”ایک دفعہ کا ذکرہےکہ سکاٹ لینڈ میںایک بادشاہ تھا جس کا نام رابرٹ بروس تھا. اس نے بہت جنگیںلڑیں، ایک دفعہ اس نے شکست کھائی. وہ میدانِ جنگ سے بھاگ نکلا اور ایک غارمیںچھپ گیا. وہ بہت زیادہ مایوس اورشکست خوردہ تھا. اسی غارمیں ایک مکڑا بھی تھا جو چھت پر پہنچنے کی کوشش کررہاتھااورجہاں اس نے اپنے جالے کا گھربنا رکھا تھا. وہ باربارکوشش کرتا اورناکام رہتا. ہر دفعہ ناکامی کے بعد مکڑاپوری تیاری سے پھر چھت پر پہنچنے کی کوشش شروع کردیتا. ساتویںدفعہ مکڑاچھت پر پہنچنے میں کامیاب ہوگیا. اس نے بادشاہ بروس کو ایک نیا سبق سکھایا جس نے اسے امید کی خوشی سے سرشارکردیا. وہ غار سے باہر نکل آیا، اس نے اپنی بکھری ہوئی افواج کو جمع کیا اورپھرایسی جنگ لڑی کہ اس کا ملک آزاد ہو گیا.” ہر کہانی کے نتیجے سے ایک اخلاقی نتیجہ نکالاجاتا ہے. رابرٹ بروس کی کہانی کا اخلاقی نتیجہ آج انگریزی زبان کی ضرب المثل ہے. “Try Try Again” باربارکوشش کرو “Till You Succeed” یہاں تک کہ کامیاب ہو جاؤ.



















































