اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

گفتگو کا محاذ

datetime 5  مئی‬‮  2017 |

خلیفہ ابو جعفر منصور کے سامنے ایک سپہ سالار کو پیش کیا گیا۔ یہ سپہ سالار خلیفہ کے ایک فوجی دستے کو شکست دے چکا تھا۔ اسے دیکھ کر خلیفہ منصور غصے سے بے قابو ہو گیا۔ اس نے چلا کر کہا ’’اے مرد و عورت کے بیٹے! تجھ جیسا کمینہ شخص میرے عظیم لشکر کو شکست سے دوچار کرنا چاہتا تھا۔‘‘قیدی سپہ سالار نے کہا۔

’’کل میرے اور تمہارے درمیان تلوار کا مقابلہ تھا اور آج تم مجھ سے گالیوں کا مقابلہ کرنا چاہتے ہو۔ افسوس ہے تمہاری عقل پر۔۔۔ تم اس شخص کو گالیاں دے رہے ہو جو اپنی زندگی سے بالکل مایوس ہو چکا ہے، اس حالت میں غلیظ ترین کلمات کہنے سے تم اسے کیا روک سکتے ہو؟‘‘خلیفہ منصور قیدی سپہ سالار کی بات سن کر سخت شرمندہ ہوا اور پھر اٹھ کھڑا ہوا، بولا ’’اس بدبخت کو آزاد کردو، میں گفتگو کے محاذ پر بھی اس سے شکست کھا گیا ہوں۔‘‘
قوت برداشت
ڈاکٹر عزیز احمد ایک ماہر نفسیات ہیں۔ فرمانے لگے کہ میں جب اعلیٰ ڈگری کے لیے بیرون ملک گیا تو وہاں نفسیاتی امراض سے بچنے کے لیے پگڑی نما ایک کپڑا سر پر باندھا جاتا تھا۔ میں نے جب دیکھا تو فوراً بولا ’’یہ تو پگڑی ہے اور جس انداز سے آپ باندھ رہے ہیں، ہمارے نبی کریمؐ نے بالکل اسی طرح باندھی تھی۔‘‘ماہرین وہ پگڑی نما کپڑا اس لیے باندھتے تھے کہ اس سے آدمی کے اندر مسائل و مصائب کی برداشت اور قوت پیدا ہوتی ہے اور آدمی بے شمار نفسیاتی امراض سے بچ جاتا ہے۔ (حلم نام ہے قوت برداشت اور تدبر کا) 1424 ھ سال قبل آقا دو جہاںؐ نے فرما دیا اور موجودہ سائنس اب تحقیق کر رہی ہے۔
اللہ کی اپنے محبوب بندے کی حفاظت
مولانا بدر عالم میرٹھی رحمتہ اللہ علیہ مہاجرمدنی فرماتے ہیں کہ ایک بار آپ دیو بند سے سفر فرما رہے تھے اور رفیق سفر کی حیثیت سے میں آپ کے ساتھ تھا۔ ریل کے جس ڈبہ میں سوار ہوئے اس میں دو خوش رو عورتیں بھی تھیں۔ حضرت شاہ صاحب جب گاڑی میں تشریف رکھتے تو اپنے منور چہرہ کی وجہ سے مرکز نگاہ بن جاتے۔

یہ عورتیں برابر آپ کو دیکھتی رہیں اور آپ حسب دستور کتاب کے مطالعہ میں مستغرق رہے۔دونوں عورتوں کے ساتھ ایک بڑا پاندان تھا۔ انہوں نے پان لگایا اور طشتری میں رکھ کر مجھے دیا کہ ان بزرگوں کو پیش کروں۔ دونوں کا اصرار اتنا بڑھا کہ ان سے پان لینے اور شاہ صاحب کو پیش کرنے کے سوا میرے لیے کوئی چارہ نہ رہا۔ میں نے طشتری آپ کے سامنے کر دی۔ استغراق مطالعہ میں آپ نے بھی بے تکلف پان منہ میں رکھ لیا،

ابھی چند منٹ نہ گزرے تھے کہ آپ پر مسلسل متلی کی کیفیت شروع ہوگئی۔ پہلے تو مجھے خیال ہوا کہ کوئی قے آور چیز تو پان میں نہیں دے دی گئی لیکن ان کے پاس پان کو خوب دیکھنے کے بعد یہ بدگمانی بھی جاتی رہی۔میرٹھ کے اسٹیشن پر معلوم ہوا کہ دونوں عورتوں کا تعلق طوائفوں سے تھا۔ اب معلوم ہوا کہ اس پاکیزہ باطن انسان کا معدہ حرام کسب کے پان کو بھی گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اللہ اکبر۔ مردان خدا کے ساتھ خدائے حفیظ و حافظ کا یہ حفاظتی معاملہ ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…