ایک دفعہ بازار میں آگ لگ گئی۔ جب یہ خبر حضرت شیخ سری سقطی نے سنی تو کہا ’’مقام شکر ہے، متاع دنیا سے خلاصی پائی۔‘‘جب آگ بجھ گئی تو معلوم ہواکہ شیخ کی دکان بچ گئی ہے۔ یہ سن کر نہایت رنجیدہ ہوئے، فرمایا ’’مسلمان بھائیوں کے ساتھ نقصان میں موافقت کرنا واجبات سے ہے۔‘‘ اور تمام مال راہ خدا میں درویشوں کو دے دیا۔رسالہ قشیریہ میں ہے کہ دکان بچنے کی اطلاع پر انہوں نے الحمدللہ کہا،
مگر بعد میں تیس سال تک اس الحمدللہ کہنے پر استغفار کرتے رہے اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے رہے۔ اس لیے کہ انہوں نے ایک مصیبت میں جس میں سب مسلمان مبتلا تھے، اپنے نفس کے لیے بھلائی چاہی تھی۔
نماز فوت ہو جانے کی تاب نہ لا سکے
جب سلیمان بن داؤد علیہ السلام اپنے گھوڑوں میں مگن (مصروف) ہو جانے کی وجہ سے نماز عصر ادا نہ کر سکے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا تو اس صدمہ کی تاب نہ لا سکے۔ انہوں نے اپنے اسپان باوفاؤں (قیمتی و نایاب گھوڑوں) کو کاٹ کر رکھ دیا تو اس کے عوض، اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے باد صبح گاہی (ہواؤں کو) تابع فرمان کر دیا کہ ان کے دوش توانا پہ سوار ہو کر جہاں چاہیں جائیں۔
ہمت نہ ہارنا بھی استقامت والوں میں شمار کروا دے گا
حضرت مفتی محمد حسن امرتسری رحمتہ اللہ علیہ نے ایسی عجیب بات لکھی ہے کہ پڑھ کر دل خوش ہو گیا۔ ’’اگر کسی نے سچے دل سے توبہ کر لی، لیکن پھر وہ توبہ توڑ بیٹھا، پھر توبہ کی توفیق مل گئی، پھر ٹوٹ بھی گئی، لیکن پھر بھی وہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوا توبہ کا دامن تھامے رکھا، بار بار گرتا رہا، اٹھتا رہا، یہ گر کر اٹھنا بھی اسے قیامت والے دن توبہ پر استقامت والوں میں شمار کروا دے گا۔ کیونکہ اس نے کوشش جاری رکھی۔ حوصلہ نہیں ہارا۔‘‘



















































