حکیم الامت حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حضرت سید سلیمان ندوی صاحب رحمتہ اللہ علیہ تشریف لے گئے۔ پورے ہندوستان میں جن کے علم کا ڈنکا بج رہا تھا۔ ’’سیرۃ النبیؐ کے مصنف، محقق وقت اور سیاسی اعتبار سے بھی لوگوں کے اندر مشہور و معروف۔ حضرت سید صاحب خود بیان فرماتے ہیں کہ میں جب حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس سے رخصت ہونے لگا تو میں نے حضرت سے عرض کیا کہ ’’حضرت! کوئی نصیحت فرما دیں۔‘‘
حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ! یہ اتنے بڑے عالم ہیں اور مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ میں نصیحت کروں۔ یا اللہ! ایسی نصیحت دل میں ڈال دیجئے جو ان کے حق میں فائدہ مند ہو۔‘‘ تو اسی وقت بے ساختہ میرے دل میں یہ بات آئی کہ ’’ہمارے ہاں اول و آخر ایک ہی چیز ہے، وہ یہ کہ اپنے آپ کو مٹا دینا۔‘‘حضرت سید صاحب فرماتے ہیں کہ یہ بات کہتے ہوئے حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ہاتھ کو جھٹکا دیا، وہ جھٹکا میرے دل میں ایسا لگا کہ اسی وقت گریہ طاری ہو گیا۔ ہمارے حضرت ڈاکٹر صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ اس کے بعد حضرت سید صاحب نے اپنے آپ کو ایسا مٹایا، ایسا مٹایا کہ میں نے ایسی بہت کم نظیریں دیکھی ہیں کہ اتنے بڑے عالم نے اپنے آپ کو ایسا مٹایا ہو۔ اس طرح مٹایا کہ میں نے ایک دن حضرت سید صاحب کو دیکھا کہ حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کی مجلس کے باہر حاضرین کی جوتیاں سیدھی کر رہے ہیں۔کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار بنتا ہے۔حضرت ڈاکٹر صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ سہ دری میں بیٹھ کر تصنیف کا کام کر رہے تھے اور حضرت سید صاحب دور ایسی جگہ پر کھڑے ہو کر حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہے تھے جہاں سے حضرت تھانوی ان کو نہ دیکھ سکیں۔
میں اچانک پیچھے سے ان کے قریب پہنچا اور کہا کہ ’’حضرت! یہاں کیا کر رہے ہیں؟ کیا دیکھ رہے ہیں؟؟‘‘میرے سوال پر اچانک چونک پڑے اور کہا کہ ’’کچھ نہیں۔‘‘میں نے جب اصرار کیا تو فرمایا کہ ’’میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ ساری زندگی جن چیزوں کو علوم سمجھتے رہے، وہ تو جہل ثابت ہوئے، علوم تو ان بڑے میاں کے پاس ہیں۔‘‘
پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت سید صاحب کو وہ مقام بخشا کہ خود ان کے شیخ حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے ان کے بارے میں یہ شعر کہا:از سلیمان گیر اخلاص عمل۔۔داں تو ندوی راہ منزہ از دغل۔یہ شعر حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت سید سلیمان ندوی رحمتہ اللہ علیہ کے بارے میں کہا۔ بہرحال، اپنے آپ کو مٹانا پڑتا ہے، تب جا کر کچھ بنتا ہے۔مٹا دے اپنی ہستی کو گر کچھ مرتبہ چاہیے۔۔کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار بنتا ہے۔



















































