ابن ابی حاتم محدث نے حضرت ابو زرعہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ خلیفہ متوکل نے حکم دیا کہ جس زمین پر امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کی نماز جنازہ پڑھی گئی اس کو ناپ کر اندازہ لگایا کہ کس قدر آدمی تھے۔ معلوم ہوا کہ تقریباً 25 لاکھ آدمی تھے۔ گو خاص بغداد کی اتنی آبادی بھی نہ رہی ہو، تب بھی یہ کوئی غلط بات نہیں ہو سکتی۔
کیونکہ ان کی وفات کی خبر اطراف و اکناف بغداد میں بجلی کی طرح پھیل گئی اور لوگ حضرت امام پر کی جانے والی سختیوں کا حال سن رہے تھے اور نہایت بے صبری اور بے چینی کا اظہار کر رہے تھے۔ اس مرد مجاہد کی وفات نے وہ مقناطیسی اثر دکھایا کہ لوگ خود بخود کھنچے چلے آئے اور اس تعداد میں جمع ہو گئے کہ چشم فلک نے ایسا نظارہ نہ دیکھا تھا۔عبدالوہاب دراق نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جاہلیت اور اسلام میں آج تک کسی میت پر اتنے آدمی اکٹھا نہ ہوئے تھے جتنے حضرت امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ کے جنازہ میں ہوئے۔
صرف ایک نماز جماعت کے بغیر ادا کرنے کا نقصان
ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ حضرت شیخ شبلی رحمتہ اللہ علیہ وعظ کر رہے تھے۔ شیخ جنید کا وہاں سے گزر ہوا۔ آپ نے مجلس میں آ کر فرمایا ’’ابوبکر! جس چیز سے تم سیراب ہوئے ہو وہی دوسروں کو دے رہے ہو۔‘‘وہ فوراً ممبر سے نیچے اترے۔ آپ نے فرمایا ’’میں نے اپنے شیخ سے سنا ہے کہ ایک واعظ تھا، جس کے وعظ سے لوگوں پر اس قدر اثر ہوتا تھا کہ کپڑے پھاڑ دیتے تھے اور بے ہوش ہو کر گر جاتے تھے۔ بعض جاں بحق ہو جاتے تھے۔ ایک دفعہ وہ زیارت خانہ کعبہ کے لیے گئے اور چند سال وہاں رہ کر واپس آ گئے۔
لوگوں نے ان کی خدمت میں وعظ کی درخواست کی۔ انہوں نے وعظ کیا لیکن اس کا کچھ اثر نہ ہوا۔ جب لوگوں نے اس کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا اور تو مجھ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی، البتہ ایک نماز بغیر جماعت کے ادا کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے فلاں! تم نے میرے کام میں غلطی کی ہے، تیری سزا یہ ہے کہ ہم نے تجھ سے حلاوتِ سخن چھین لی ہے۔‘‘



















































