اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

جو ربّ سے ڈرتا ہے وہ کسی سے نہیں ڈرتا

datetime 5  مئی‬‮  2017 |

جب عبد اللہ بن علی عباسی نے دمشق فتح کیا تو صرف ایک گھنٹے میں بہت سارے مسلمانوں کی کثیر تعداد کا ناحق خون بہادیا اور خلافت امویہ کی سب سے بڑی مسجد کے اندر اپنے گھوڑوں داخل کردیا!! پھر وزراء کے ساتھ بیٹھا اور بطور فخر پوچھا:کیا اب میرا کوئی مقابلہ کرسکتا ہے؟ جواب ملا: نہیں- اس نے پھر پوچھا:کیا تم لوگوں کو کسی کے بارے میں علم ہے جو مجھ پر اعتراض کرنے کی جراءت رکھتا ہو؟

وزراء نے جواب دیا: نہیں، ہاں اگر کوئی جواب دینے کی جراءت کرسکتا ہے تو وہ اوزاعی ہیں- عبداللہ بن علی عباسی نے کہا: اوزاعی کو میری خدمت میں حاضر کرو- چنانچہ فوجی امام اوزاعی کو لانے گئے، لیکن انھیں دیکھ کر امام صاحب نے اپنی جگہ سے بالکل حرکت نہیں کی- فوجیوں نے کہا: عبداللہ بن علی کے دربار میں آپ کا بلاوا ہے-امام اوزاعی نے ان سے کہا: حسبنا اللہ ونعم الوکیل “ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے-“(آل عمران:3/173)تم لوگ تھوڑی دیر میرا انتظار کرو- پھر اندر گئے- غسل فرمایا، کفن زیب تن کیا اور موت کے لیے خود کو تیار کرلیا اور اپنے آپ سے مخاطب ہوکر فرمایا:قد آن لک یا اوزاعی ان تقول کلمۃ الحق لا تخشی فی اللہ لومۃ لائم” اے اوزاعی! اب وقت قریب آن پہنچا ہے کہ تو حق بات کہے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے ہرگز نہ ڈرے-“امام اوزاعی خود یہ قصہ بیان کرتے ہیں:میں عبد اللہ بن علی کے دربار میں داخل ہوا تو وہان فوجیوں کا ہجوم تھا- ان فوجیوں کی دو صفیں تھیں اور ہر فوجی اپنی اپنی تلوار میان سے نکال کر سونتے ہوئے تھا- میں تلواروں کے سایے میں چلتے ہوئے عبداللہ بن علی تک پہنچا- وہ اپنے پلنگ پر بیایا ہوا تھا- اس کے ہاتھ میں ایک کوڑا تھا اور اس کی پیشانی پر غصے کے آثار نمایاں تھے- امام اوزاعی کہتے ہیں:جب میں نے عبداللہ بن علی عباسی کو دیکھا تو وہ میری نگاہ میں مکھی کی مانند حقیر تھا- میں نے اس وقت کسی کو یاد نہیں کیا، نہ تو اہل کو، نہ مال کو اور نہ اولاد کو،

بلکہ میں نے عرش الہی کو یاد کیا جب اللہ تعالی قیامت کے دن لوگوں کے سامنے ظاہر ہوگا-عبداللہ بن علی نے اپنی نگاہ اوپر اٹھائی تو اس کے چہرے سے غصے کا خون ٹپک رہا تھا- وہ گوایا ہوا:اے اوزاعی! ہم نے جو بنو امیہ کا خون بہایا ہے، اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟امام اوزاعی نے جواب دیا:حصرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” تین صورتوں کے علاوہ کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں، شادی شدہ زانی، خون کا بدل خون اور دین حق کو چھوڑنے والا-“لہذا تم نے جن کو قتل کیا اگر ان کا شمار ان تین قسم کے لوگوں میں ہو تب ٹھیک ہے، ورنہ ان کا ناحق خون تمہاری گرن پر ہے- امام اوزاعی کہتے ہیں: یہ سن کر اس نے کوڑے کا بل کھلا اور میں نے عمامہ اتارلیا کیونکہ اب میں تلوارکا انتطار کررہا تھا! میں نے وزراء کو دیکھا جو اپنے کپڑے سمیٹ رہے تھے تاکہ کپڑوں پر میرے خون کے چھنٹے نہ پڑنے پائيں- پھر عبداللہ بن علی عباسی نے سوال کیا: مال و دولت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟امام اوزاعی نے جواب دیا:ان کانت حلالا فحساب، و ان کانت حراما فعقاب۔”اگرحلال ہے تو بہرحال حساب دینا ہے، اور اگر حرام ہے تو سزا بھگتنی پڑے گی-“عبداللہ بن علی عباسی نے کہا: یہ سونے سے بھرا ہوا تھیلا قبول کریں- امام اوزاعی نے کہا:لا ارید المال”مجھے مال و دولت کی کوئی ضرورت نہیں-

“امام اوزاعی کہتے ہیں کہ ایک وزیر نے مجھے آنکھ سے اشارہ کیا کہ میں سونے سے بھرا ہوا وہ تھیلا قبول کروں- چنانچہ امام اوزاعی نے تھیلا لےلیا اور اسے فوجیوں میں تقسیم کردیا اور خالی تھیلا وہیں پھینک کر یہ پڑھتے ہوئے نکل گئے:حسبنا اللہ و نعم الوکیل” ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے-“

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…