کسی ہندو بنیئے کی ایک چونی غلاظت میں گر گئی۔ بنیئے کو گھن تو بہت آئی لیکن وہ اپنی چونی کو کسی قیمت پر بھی چھوڑنے کو تیار نہ تھا۔ دیر تک ایک پتلی سی لکڑی کی مدد سے غلاظت کو بدلتا رہا اور دعا مانگتا رہا کہ ’’یا اللہ میری چونی دلا دے۔‘‘کسی راہ گیر نے جب یہ کلمات سنے تو حیرت سے پوچھا۔ ’’لالہ جی، یہ کیابات ہوئی، چونی کھوئی ہے تو اس کی بازیابی کے لیے اپنے بھگوان سے دعا مانگو،
یہ اللہ میاں کو کیوں یاد کر رہے ہو؟‘‘بنیئے نے حیرت اور سنجیدگی سے راہ گیر کو گھورا اور جواب دیا۔ ’’واہ جناب! آپ نے بھی ایک ہی کہی، ایک ذرا سی چونی کے لیے جو غلاظت میں گر گئی ہو اپنے بھگوان کو کیوں زحمت دوں، یہ کام مسلمانوں کے اللہ ہی سے لینا چاہیے۔‘‘
میں اپنی دین شکنی نہیں کر سکتا
حضرت والا (اشرف علی تھانوی رحمتہ اللہ علیہ) کے ایک صاحبزادہ نے تراویح میں قرآن مجید سنایا۔ مقتدیوں میں کوئی بینک منیجر تھا، عید کے بعد اس نے ایک شخص حضرت والا کی خدمت میں بھیج کر دریافت کروایا ’’جن قاری صاحب نے تراویح میں قرآن سنایا ہے ان کا نام کیا ہے؟‘‘حضرت نے اسے نام بتا دیا۔ فرمایا ’’میں نے اس خیال سے نام بتا دیا کہ شاید یہ ان کے لیے کوئی خاص دعائے خیر کرنا چاہتا ہے۔‘‘لیکن معلوم ہوا کہ وہ کچھ رقم صاحبزادہ کو بطور عطیہ دے کر ان کے نام بینک میں کھاتا کھولناچاہتا ہے۔ اس غرض سے اس نے بینک میں کھاتا کھولنے کے فارم دستخط کے لیے بھیجے۔ حضرت والا نے جواب میں کہلا بھیجا۔ ’’یہ تو دوہرا حرام ہے۔ ایک تو تراویح میں قرآن سنانے کا کچھ معاوضہ لینا حرام اور دوسرا بینک والوں کی حرام آمدنی کا عطیہ حرام۔‘‘ یہ فرما کر کھاتا کھولنے کے فارم بغیر دستخط کیے لوٹا دئیے۔
’’جواباً اس نے یہ کہلا بھیجا۔ ’’میں با اختیار افسر ہوں، اور بغیر دستخط کے بھی کھاتا کھول سکتا ہوں، چنانچہ میں اتنی رقم قاری صاحب کے نام جمع کر دی ہے اور بینک میں کھاتا کھول دیا ہے، اسے قبول فرما لیجئے۔‘‘حضرت والا نے کاغذات لانے والے سے فرمایا۔ ’’کیوں ہماری ماچس کی سلائی ضائع کرواتے ہو، ہم تو اسے جلانے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے، بہتر ہے کہ یہ کام بھی آپ خود ہی کر لیں۔‘‘
بعد میں اس منیجر نے حضرت والا سے ٹیلی فون پر کہا۔ ’’آپ نے ہماری دل شکنی کردی۔‘‘حضرت والا نے جواب میں ارشاد فرمایا۔ ’’آپ کی دل شکنی سے بچنے کے لیے اپنی دین شکنی نہیں کر سکتا اور آپ کو راضی کرنے کے لیے اپنے مالک کو ناراض نہیں کر سکتا۔‘‘



















































