مولانا ارسلان بِن اختر کہتے ہیں کہ میں عشاء کی نماز پڑھنے کے لیے نکلا۔ جب گلی میں پہنچا تو ایک دروازے پر ایک آدمی ایک چھوٹے بچے کے ساتھ کھڑا تھا اور دروازے میں ایک عورت کھڑی تھی۔ وہ زور دار آواز میں بتا رہی تھی۔ جو الفاظ میں نے سنے ان الفاظ سے ایسا لگا جیسے دل پر آگ کے انگار برس رہے ہوں۔ وہ اس آدمی کو بتا رہی تھی کہ ’’آج میرے بچوں کو بھارت کی سپرہٹ فلم لا دیں۔‘‘
ہائے افسوس! مجھے بڑا دکھ ہوا بہن کی سوچ پر کاش! وہ کہہ دیتی کہ میرے بچے کو اسلامی کتاب لا کر دیں تاکہ یہ دین کو سمجھنے والا بن جائے۔ کاش! وہ کہتی میرے بچوں کو جہاد کے بارے میں بتائیں تاکہ یہ اسلام کا سچا اور پکا خفاظت کرنے والا بنے۔ بہن، کاش! تیرے منہ سے یہ الفاظ نکلتے تو میرے دل پر انگاروں کے بجائے دل کو سکون ملتا۔لیکن آج میری ان بھٹکی ہوئی بہنوں میں اتنی سوچ کہاں؟ وہ تو ان موذی ہندوؤں کی فلمیں دیکھ کر اپنے آپ کو ان کی طرح ڈھالنا چاہتی ہیں۔ اپنے بچوں کو ان جیسا ہیرو بنتا ہوا دیکھنا چاہتی ہیں۔ کاش! تو ان کو اسلام کا ہیرو بناتی، یہ زندگی ایک انمول ہیرا ہے جسے تراشنا انسان کا اپنا کام ہے۔ کاش! تو ان کی زندگیوں کو اسلام کے لیے تراشتی۔عالمی میڈیا کے ایک صحافی نے انڈیا کے وزیر خارجہ سے ایک انٹرویو لیا جو تمام عالمی نشریاتی اداروں نے نشر کیا جو ہماری غیرت کو جگانے کے لیے کافی ہے۔صحافی نے وزیر سے پوچھا کہ تم نے کشمیر میں جو فوج اتاری ہے اور روزانہ کا 50 سے 60 کروڑ روپیہ اپنی فوج پر خرچ کرتے ہو اور حاصل کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ اگر یہی رقم تم اپنے ملک کی تعمیر و ترقی پر لگاؤ اور اپنی معیشت کو بحال رکھو تو بہتر ہوگا۔ آج تمہارے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ بغیر سائبان کے فٹ پاتھوں پر سوتے ہیں، ان کو جگہ مہیا کرو انہیں اعلیٰ تعلیم مہیا کرو، جس سے تمہارا ملک ترقی کی راہوں پر گامزن ہو جائے گا۔
وزیر نے عجیب جواب دیا۔ اس نے کہا ہم یہ تمام پیسہ جو کشمیر میں خرچ کرتے ہیں۔ اپنی جیب سے تو نہیں دیتے۔ ہم اپنی آڈیو اور وڈیو فلمیں پاکستان، متحدہ عرب امارات اور دوسرے عرب ممالک میں بھیجتے ہیں اور اتنا پیسہ اس سے کما لیتے ہیں جس سے اپنی فوج کا خرچ بھی چلاتے ہیں اور اپنے ملک کی ترقی پر بھی خرچ کرتے ہیں۔آخر کب تک؟ ہائے افسوس! میری بہنوں نے یہ بھی نہ سوچا کہ یہ پیسہ ہماری ہی عزت لٹنے پر لگے گا۔
کاش! وہ سمجھ سکتی۔ اے امتِ مسلمہ کی غیور مسلمان ماؤں، بہنو! تم ذرا اپنے ماضی پر تو نظر دوڑاؤ کہ تمہارا ماضی کیسا شاندار تھا وہ بھی ایک دور تھا۔اے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی بیٹیو! اے امت مسلمہ کی بہنو! تمہارے یہ مجاہد بھائی تو اس دین کی سربلندی کے لیے جان ہتھیلی پر لیے پھرتے ہیں۔ جس دین نے تم ماؤں، بہنوں کو عزت دی۔ جس دین نے تم کو جینا سکھایا، جس دین نے تم کو سارے حقوق دئیے۔
اے امت مسلمہ کی غیور ماؤں، بہنو، بیٹیو! وہ بھی مائیں تھیں، جنہوں نے اپنے بیٹے دے دئیے وہ بہنیں جنہوں نے اپنے بھائیوں کو دین پر جان وارنے کے لیے دے دیا۔ وہ بیٹیاں جو اپنے ننھے منے ہاتھوں سے مجاہدوں کے لیے دعائیں مانگا کرتی تھیں۔ کیا تم بھی ان کی طرح انسان نہیں ہو کیا تم ان کے نقش قدم پر نہیں چل سکتیں۔اے اسلام کی رکھوالیو! ذرا غور کرو۔ اس دنیا پر غور کر یہ دنیا فانی ہے۔ ایک دن ختم ہو جائے گی،
تم ہی ہو جو اسلام کا نام روشن کرو گی تم ہی مسلمان بیٹی ہو جو مستقبل کے ایسے بچوں کو جنم دو گی جو اسلام کا نام روشن کریں گے۔ اسلام سے قبل تم کو کوئی عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا تھا۔ وہ اسلام ہی ہے جس نے تم کو عزت جیسا نام دیا۔ رب کے لیے تم قرونِ اولیٰ جیسی ماؤں، بہنوں ، بیٹیوں کے نقش قدم پر چلو! پھر دیکھو اللہ تمہیں کہاں سے کہاں تک لے جاتا ہے۔ اب رب کائنات سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ سب ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو اپنی رضا والی زندگیاں نصیب فرمائیں۔



















































