میں نے والد ماجد رحمتہ اللہ علیہ سے حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ کا واقعہ سنا۔ ایسی بزرگ ہستی کہ ماضی قریب میں اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔ شاہی خاندان کے شہزادے تھے، اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے نکل پڑے اور قربانیاں دیں۔ ایک مرتبہ دہلی کی جامع مسجد میں خطاب فرما رہے تھے،
خطاب کے دوران بھرے مجمع میں ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگاکہ ’’(العیاذ باللہ) ہم نے سنا ہے کہ آپ حرام زادے ہیں۔‘‘اتنے بڑے عالم اور شہزادے کو ایک بڑے مجمع میں یہ گالی دی، اور وہ مجمع بھی معتقدین کا ہے۔ میرے والد صاحب رحمتہ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ ہم جیسا کوئی آدمی ہوتا تو سزا دیتا، اگر وہ سزا نہ بھی دیتا تو اس کے معتقدین اس کی تکہ بوٹی کر دیتے اور کم از کم اس کو ترکی بہ ترکی یہ جواب تو دے ہی دیتے کہ تو حرام زادہ، تیرا باپ حرام زادہ، لیکن حضرت مولانا شاہ اسماعیل شہید رحمتہ اللہ علیہ جو پیغمبرانہ دعوت کے حامل تھے، جواب میں فرمایا:’’آپ کو غلط اطلاع ملی ہے، میری والدہ کے نکاح کے گواہ تو آج بھی دلی میں موجود ہیں۔‘‘اس گالی کو ایک مسئلہ بنا دیا، لیکن گالی کا جواب گالی سے نہیں دیا۔
تکلیف سے بچانے کا اہتمام
حضرت بازید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے ایک رفیق کے ساتھ جنگل میں کپڑے دھوئے۔ دھونے کے بعد ان کے ساتھی نے کہا کہ ’’ان کپڑوں کو انگور کی باڑھ (ٹہنی) پر پھیلا دیں۔‘‘آپ نے کہا ’’ہم لوگوں کی دیوار میں میخ نہیں گاڑتے۔‘‘ساتھی نے کہا ’’اچھا درخت سے لٹکا دیں۔‘‘تو آپ نے فرمایا۔ ’’نہیں، اس کی ٹہنیاں ٹوٹ جائیں گی۔‘‘ساتھی نے کہا ’’تو پھر اذخر (مرچیاگند) گھاس پر پھیلا دیں۔‘‘
تو آپ نے فرمایا۔ ’’یہ چوپایوں کا چارہ ہے، ہم جانوروں سے اس کو نہیں چھپا سکتے (کپڑوں کے پھیلانے سے گھاس چھپ جائے گی)آخر کار آپ نے اپنی پیٹھ پر کپڑے ڈال لیے اور سورج کی طرف پیٹھ کرکے کھڑے ہو گئے۔ جب ایک رخ سے کپڑے سوکھ گئے تو ان کو الٹ دیا۔ پھر دوسرا رخ بھی سوکھ گیا۔ اس طرح آپ نے کپڑے خشک کر لیے۔
آپ مجھے پہچانتے نہیں
ایک دفعہ بصرہ کا حاکم بڑے غرور اور تمکنت کے ساتھ اکڑتا ہوا حضرت مالک بن دینار کے سامنے سے گزرا، آپ نے فرمایا ’’یہ غرور کی چال بدل ڈالو۔‘‘ حاکم بصرہ کے خدام حضرت مالک کی طرف دوڑے کہ ان کو اس گستاخی کی سزا دیں۔ لیکن حاکم نے ان کو روک دیا اور خود حضرت مالک سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔
’’معلوم ہوتا ہے کہ آپ مجھے پہچانتے نہیں ہیں۔‘‘آپ نے جواب دیا ’’میں تجھے خوب جانتا ہوں، آخر کیا شے ہے تیرا آغاز، پانی کا ایک بدبودار قطرہ اور تیرا انجام بدبودار جسم ہے اور آغاز و انجام کا درمیانی وقفہ تیرے کام کرنے کا وقت ہے۔ اس دوران جیسا بوئے گا ویسا کاٹے گا۔‘‘حاکم بصرہ نے یہ سن کر گردن جھکا لی اور چپکے سے چلا گیا۔



















































