ایک دفعہ ہارون الرشید کا ایک بیٹا غصے میں بھرا ہوا باپ کے پاس آیا اور کہا کہ ’’فلاں سپاہی کے لڑکے نے مجھے ماں کی گالی دی ہے۔‘‘ہارون الرشید نے ارکان دولت سے پوچھا کہ ایسے آدمی کو کیا سزا دینی چاہیے۔ ایک نے زبان کاٹنے کی رائے دی اور ایک دوسرے نے جائیداد کی ضبطی اور ملک بدر کرنے کی سزا تجویز کی اور ایک نے اس کے قتل کا مشورہ دیا۔
ہارون الرشید نے بیٹے سے مخاطب ہو کر کہا ’’اے بیٹے! اگر تو اسے معاف کر دے تو تیری مہربانی ہے، اور اگر نہیں کر سکتا تو بھی اس کو ماں کی گالی دے لے۔ لیکن حد سے تجاوز نہ کرنا ورنہ پھر تیری طرف سے ظلم ہو گا اور دوسرے کی طرف سے دعوی۔‘‘نہ مردست آں بنزدیک خرومند۔۔کہ باپیل دماں پیکا بوید۔۔بلے مرد آنکس ست از روئے تحقیق۔۔کہ چوں خشم آیدش باطل نگوید۔عقل مند کے نزدیک مرد وہ نہیں ہے جو مست ہاتھی سے لڑے، ہاں تحقیق کی رو سے مرد وہ ہے کہ جب اس کو غصہ آئے تو واہی تباہی نہ بکے۔ (حکایات سعدی)
کسی انسان کے پرکھنے کا معیار
حضرت لقمان حکیم رحمتہ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ ’’اے بیٹے، تین شخص تین موقعوں پر پرکھے جاتے ہیں۔ حلیم و بردبار آدمی غصہ کے وقت، بہادر آدمی لڑائی کے وقت اور بھائی احتیاج کے وقت۔‘‘کہتے ہیں کہ ایک تابعی کی ایک آدمی نے ان کے سامنے تعریف کی۔ یہ کہنے لگے ’’اے اللہ کے بندے! تو نے میری تعریف کس وجہ سے کی ہے؟ کیا تو نے مجھے غصہ کی حالت میں بردبار پایا ہے؟‘‘کہنے لگا ’’نہیں‘‘۔کہنے لگے ’’تو کیا پھر کسی سفر میں میرا تجربہ کیا ہے؟ اور مجھے اچھے اخلاق والا دیکھا ہے؟‘‘ وہ بولا ’’نہیں۔‘‘کہنے لگے ’’تو کیا پھر کوئی امانت رکھ کر میرا تجربہ کیا ہے اور مجھے امین پایا ہے؟‘‘اس شخص نے جواب دیا ’’نہیں۔‘‘فرمانے لگے ’’پھر تو بہت افسوس کی بات ہے، کسی شخص کو دوسرے کی تعریف اس وقت تک زیبا نہیں جب تک ان تین باتوں میں اس کو پرکھ نہ لے۔‘‘



















































