اس پر ایک حکایت یاد آئی کہ افلاطون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پوچھا کہ ’’آسمان کمان ہو اور دنیا کی مصیبتیں نیزے ہوں اور خدا تعالیٰ نشانہ لگانے والے ہوں تو آدمی کہاں جا کر بچے۔‘‘حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ’’تیر چلانے والے کے پاس جا کھڑا ہو، کیونکہ تیر دور والے پر چلاتے ہیں،
کہنے لگا کہ بے شک آپ نبی ہیں، ایساعلم نبیوں ہی کا حصہ ہے۔ تو جب خدا تعالیٰ نزدیکی ہو گی تو حقیقت میں جس کا نام مصیبت ہے وہ نہیں آ سکتی، یعنی تکلیف نہ ہو گی، چاہے صورت مصیبت کی ہو مگر دل میں بالکل خوش ہو گا۔
یہ طشت بھی تم لے لو
حضرت امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے مکہ مکرمہ میں ایک دکاندار کے پاس اپنا طشت گروی رکھ دیا۔ جب اس کو واپس لینے کا وقت آیا تو دکاندار نے دو طشت آپ کے سامنے رکھ دئیے اور کہا کہ ان دونوں میں جو آپ کا ہو، لے لیجئے۔ حضرت امام رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اپنے طشت کا پہچاننا میرے لیے مشکل ہے، لہٰذا یہ دونوں طشت تم ہی اپنے پاس رہنے دو۔امام صاحب نے رہن کا روپیہ اس کو دے دیا۔ دکاندار نے کہا۔ ’’حضرت! میں تو آپ کی آزمائش کر رہا تھا۔ یہ رہا آپ کا طشت!‘‘امام صاحب نے فرمایا ’’اب میں نہیں لوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر طشت چھوڑ کر چلے گئے۔



















































