مولانا ارسلان بِن اخترکہتے ہیں کہ ایک بے ادب اور گستاخ آدمی مجھے کہنے لگا کہ ’’یہ سب کچھ ہم نے اپنی عقل سے کمایا، اچھے فیصلے کیے اور محنت سے کمایا۔‘‘میں نے کہا ’’اچھا یہ بتاؤ کہ تمہیں عقل کس نے دی؟‘‘وہ کہنے لگا۔ ’’اللہ نے۔‘‘میں نے کہا ’’تمہیں محنت کرنے کی توفیق کس نے دی؟‘‘وہ کہنے لگا ’’اللہ نے۔‘‘میں نے کہا ’’پھر معلوم یہ ہوا کہ رزق تو پھر اللہ نے ہی دیا۔‘‘
ذکر اللہ نے گناہوں سے بچا لیا
جس وقت حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے گناہ کا موقع آیا اور تمام اسباب جمع ہو گئے۔ تو اس وقت اس گناہ سے ذکر نے روک دیا، اس لیے کہ جب زلیخا نے کہا ’’ھیت لک‘‘ تو جواب میں انہوں نے فرمایا ’’معاذ اللہ۔‘‘ اللہ کی پناہ۔ اس موقع پر اللہ کی پناہ کے احساس نے یہ طاقت دی اور اتنے دلربا ماحول میں جس میں انسان کے پھسل جانے کا ننانوے فیصد احتمال موجود تھا، اس اللہ کے ذکر نے اس کو گناہ سے روک دیا۔
میرے اندر دو باتیں تھیں، انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ
ایک دفعہ مفتی کفایت اللہ رحمتہ اللہ علیہ نے طلباء سے پوچھا کہ ’’بتاؤ انور شاہ کشمیری رحمتہ اللہ علیہ اتنے زیادہ مشہور کیوں ہو گئے؟‘‘کسی نے کہا ’’مفسر اچھے تھے۔‘‘کسی نے کہا ’’محدث اچھے تھے، شاعر اچھے تھے، وہ منطق اچھی جانتے تھے۔‘‘فرمایا ’’نہیں۔‘‘کسی اور نے یہی سوال ایک مرتبہ حضرت کشمیری رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھ لیا تو فرمایا ’’دو باتیں میرے اندر تھیں، جب مطالعہ کرتا تھا تو باوضو کرتا تھا اور جب مجھے کتاب کا حاشیہ پڑھنے کی ضرورت پڑتی تھی اور حاشیہ دوسری طرف ہوتا تو میں اپنی جگہ چھوڑ کر دوسری طرف آ کر حاشیہ پڑھ لیتا تھا۔ حدیث کی کتاب کو میں نے کبھی اپنے تابع نہیں کیا۔‘‘



















































