امام رازی رحمتہ اللہ علیہ اپنے وقت کے بہت بڑے امام تھے۔ ان کی لکھی ہوئی قرآن مجید کی تفسیر ’’تفسیر کبیر‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ وہ ایک عظیم شاہکار اوراپنی مثال آپ ہے۔امام رازی رحمتہ اللہ علیہ نے ظاہری علوم یعنی مدارس کے علوم حاصل کرنے کے بعد باطنی علم حاصل کرنا چاہا تو ایک بزرگ کی خدمت میں گئے اور اس کے لیے باقاعدہ سفر کیا۔
یہاں ہمیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ باطنی علوم (باطن کی اصلاح) حاصل کرنے کے لیے کسی نہ کسی ایسے پابند شریعت و عامل سنت بزرگ کی خدمت و صحبت ضرور اختیار کرنی چاہیے۔ جس سے مناسبت ہو اور مزاج ملتا ہو۔ جس بزرگ کی باتیں مانوس معلوم ہوتی ہوں، اس سے ضرور اپنی اصلاح کرانی چاہیے۔امام صاحب کا مزاج ان بزرگ سے نہ ملا تو وہ دوسرے بزرگ کی صحبت میں آ گئے۔ آخر کار مختلف بزرگوں سے ملنے کے بعد ایک بزرگ سے انسیت پیدا ہوئی اور ان کی صحبت و خدمت میں رہنے لگے۔ کچھ دن کے بعد امام صاحب نے بزرگ سے درخواست کی کہ ’’حضرت! میں بیعت ہونا چاہتا ہوں۔ آپ مجھے بیعت کر لیں۔‘‘بزرگ نے فرمایا ’’بھئی! میں بیعت نہیں کرتا۔‘‘یہاں پر ہمیں ایک اور بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ پہلے بزرگوں کا یہی طریقہ تھا کہ جب کوئی شخص بیعت کے لیے آتا تو اسے منع کر دیا کرتے تھے تاکہ اس کو آزمائیں، آیا اس کے اندر سچی تڑپ ہے کہ نہیں۔ اگر انہیں یہ معلوم ہو جاتا کہ دنیا کی شہرت کے لیے یا کسی دنیاوی غرض کے لیے بیعت ہونے آیا ہے تو اسے رخصت کر دیتے اور اگر وہ سچی تڑپ لے کر آیا ہوتا اور واقعی اپنی اصلاح کرانا چاہتا ہو تو اسے بیعت کر لیتے تھے۔بہرحال بزرگ نے انکار کردیا۔ کچھ روز کے بعد پھر درخواست کی۔ ’’حضرت! مہربانی فرما کر مجھے بیعت کر لیں۔‘‘
دو تین مرتبہ درخواست کرنے کے بعد بزرگ نے کہا۔ ’’اچھا بھئی، فلاں وقت آ جانا، میں بیعت کر لوں گا۔‘‘چنانچہ جو وقت بزرگ نے دیا تھا، امام صاحب حاضر خدمت ہوئے تو بزرگ نے امام صاحب کو کمرے میں لے جا کر اندر سے کنڈی لگا لی اور فرمای کہ ’’میرے سامنے بیٹھ جاؤ۔‘‘جب بھی بیعت کی جاتی ہے، عموماً بالکل آمنے سامنے ہو کر کی جاتی ہے۔ چنانچہ امام صاحب ان کے سامنے بیٹھ گئے۔
کچھ دیر کے بعد امام صاحب نے اپنے سینہ سے ایسی آواز سنی جیسے کہ ہوا سے اوراق اڑ رہے ہوں۔ ’’بزرگ نے فرمایا۔ ’’ارے میاں! یہ آواز علوم ظاہرہ کے نکلنے کی ہے۔‘‘جب امام صاحب نے یہ سنا تو انہیں گھبراہٹ ہوئی اور پریشان ہو کر کہنے لگے۔ ’’حضرت آپ تو میرا سالہا سال کا علم جو میں نے رات دن ایک کرکے حاصل کیاتھا، ذرا سی دیر میں نکال باہر کر رہے ہیں۔ حضرت ایسا تو نہ کریں۔‘‘بزرگ نے فرمایا۔ ’’ارے بھائی! یہ حال تھوڑی دیر کا ہے، اس کے بعد علوم ظاہر واپس لوٹ آئیں گے۔‘‘ امام صاحب اس پر راضی نہ ہوئے۔ خیر قصہ مختصر یہ کہ امام صاحب اپنے وطن واپس لوٹ آئے۔ باقی زندگی پڑھانے میں گزار دی۔



















































