اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت مدنی رحمتہ اللہ علیہ کے اعلیٰ کردار کو دیکھ کر تائب ہونا

datetime 4  مئی‬‮  2017 |

حضرت مولانا احمد لاہوری رحمتہ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ جب حضرت مدنی رحمتہ اللہ علیہ آخری حج سے تشریف لا رہے تھے تو ہم لوگ اسٹیشن پر شرف زیارت کے لیے گئے۔ حضرت کے متوسلین میں سے ایک صاحبزادہ محمد عارف جو کہ ضلع جھنگ سے تعلق رکھتے تھے، دیوبند تک ساتھ گئے۔ ان کا بیان ہے کہ ٹرین میں ایک ہندو جنٹلمین بھی تھے، جن کو فراغت کا تقاضا ہوا۔

وہ رفع حاجت کے لیے بیت الخلاء میں گئے اور الٹے پاؤں بادل نخواستہ واپس ہوئے۔ حضرت مدنی سمجھ گئے۔ فوراً چند سگریٹ کی ڈبیاں ادھر ادھر سے اکٹھی کیں اور لوٹا لے کر لیٹرین میں گئے۔ اچھی طرح صاف کیا اور ہندو دوست سے فرمانے لگے کہ ’’جائیے لیٹرین بالکل صاف ہے۔‘‘وہ بڑا متاثر ہوا اور بھرپور عقیدت کے ساتھ عرض کرنے لگا ’’یہ حضور کی بندہ نوازی ہے جو سمجھ سے باہر ہے۔‘‘اس واقعہ کو دیکھ کر اسی ڈبہ میں موجود خواجہ نظام الدین تونسوی نے ایک ساتھی سے پوچھا کہ ’’یہ کھدر پوش کون ہے؟‘‘جواب ملا کہ ’’یہ مولانا حسین احمد مدنی ہیں۔‘‘ خواجہ صاحب نے اس وقت بے اختیار ہو کر حضرت مدنی رحمتہ اللہ علیہ کے پاؤں کو چھو لیا اور پاؤں سے لپٹ کر رونے لگے۔ حضرت نے جلدی سے پاؤں چھڑا لیے اور پوچھا ’’کیا بات ہے؟‘‘تو خواجہ صاحب نے کہا۔ ’’سیاسی اختلافات کی وجہ سے میں نے آپ کے خلاف بہت فتوے دئیے اور برا بھلا کہا۔ اگر آج آپ کے اس اعلیٰ کردار کو دیکھ کر تائب نہ ہوتا تو شاید سیدھا جہنم میں جاتا۔‘‘حضرت نے فرمایا ’’میرے بھائی! میں نے تو حضورؐ کی سنت پر عمل کیا ہے اور وہ سنت یہ ہے کہ حضورؐ کے ہاں ایک یہودی مہمان نے بستر پر پاخانہ کردیا تھا۔ صبح جلدی سے اٹھ کر چلا گیا۔ جب اپنی بھولی ہوئی تلوار واپس لینے آیا تو دیکھا کہ حضورؐ بنفس نفیس اپنے دست مبارک سے بستر کو دھو رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر وہ مسلمان ہو گیا۔‘‘
قرآن پڑھنے کا شوق
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمتہ اللہ علیہ بانی دارالعلوم دیوبند اپنے وقت کے ایک جید عالم اور مناظر تھے۔ جب حج کے لیے تشریف لے جا رہے تھے تو سمندر میں جہاز پر رمضان شریف کا چاند دیکھا گیا۔ رفقاء کی خواہش ہوئی کہ تراویح پڑھی جائے، مگر اتفاق سے کوئی بھی حافظ قرآن نہ تھا۔ خود مولانا بھی حافظ نہ تھے۔ مگر لوگوں کے اصرار پر ایک پارہ روزانہ دن میں حفظ فرماتے اور رات کو تراویح میں سنا دیا کرتے تھے۔

اس طرح پورا قرآن یاد کرکے سنا دیا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی رحمتہ اللہ علیہ نے بھی کبرسنی میں یہ شرف حاصل فرمایا۔ مولانا حسین احمد رحمتہ اللہ علیہ نے بھی قید کی حالت میں جزیرہ مالٹا میں جب اپنے شیخ حضرت مولانا سید محمد الحسن صاحب نوراللہ مرقدہ کے ساتھ جیل میں زندگی گزار رہے تھے تو قرآن مجید حفظ کیا تھا۔ بلکہ ترکی زبان بھی ایک ترک قیدی سے کافی سیکھ لی تھی اور فیوض باطنی بھی حاصل کر لینے کا بہترین موقع پایا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…