سعودیہ کے تاجروں میں سے ایک ہمارے بھائی نے اپنے تجارتی سفر کا واقعہ بیان کیا ہے کہ وہ ملک کی سرحدوں پر سے مال لے کر آتا جاتا تھا، اور وہی ایک چوکی تھی جہاں سے سامان آتا جاتا تھا، اور مال لانے والوں پر یہ نگران مقرر ہوا تھا۔ مگر اس کا رئیس یعنی بڑا افسر جو تھا اس نگران کو پتہ چلا کہ وہ رشوت خور ہے اور رشوت خوری میں بے شرمی کی حد تک پہنچ چکا ہے۔
اس نے وہاں کے نگران کو یہ نصیحت کر رکھی تھی کہ زیادہ تشدد نہ کیا جائے تاکہ رشوت میں آسانی رہے۔ جب اس ہمارے ساتھی نگران نے یہ بات سنی کہ یہاں کا افسر اعلیٰ رشوت لیتا ہے تو اس کے کندھے مارے خوف کے کانپنے لگے، اور اس کے جس میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔ وہ جب دفتر سے باہر نکلا تو تردد و غم کی شدت سے اس کا گلا گھٹنے لگا۔ دن گزرتے گئے تو ہمارے اس نگران دوست کے پاس بھی لوگ آ کر کہنے لگے۔ ’’جناب! یہ ہمارے ادارے کی جانب سے آپ کی خدمت میں تحفہ دیا جا رہا ہے۔‘‘ اور ایک آ کر کہتا ’’جناب یہ ہماری کمپنی کی جانب سے آپ کی حسن کارکردگی کا تمغہ ہے۔‘‘وہ شکریہ کے ساتھ واپس لوٹاتا رہا اور نہ لیتا رہا۔ لیکن ایسا کب تک ممکن تھا۔ اس نے یہ ڈر محسوس کیا کہ میں تو دب جاؤں گا، اگر رشوت لینا شروع ہو گیا تو ویسے ہی حرام مال ہے تو اس کے دو کشتیوں میں پاؤں آ گئے۔ یا تو عہد و تنخواہ سے معزول ہو جاؤں، یا حرام کھا کر اللہ کی حدوں سے تجاوز کر جاؤں اور رشوت خوری شروع کر دوں مگر اس کا دل فطرت پہ تھا، اس کے دل میں ابھی یہ شعور بیدار تھا:ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لایحتسب۔’’جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نکلنے کی جگہ بنا دیتا ہے اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔‘‘ اس نے اس ملازمت سے معذرت کر لی،
یہ کہتا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک چھوٹا ٹرک دے دیا۔ میں نے مال کی سپلائی کا کام شروع کر دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک اور ٹرک دے دیا، بعض تاجر تو مجھ سے سامان کی سپلائی کا اس طرح مطالبہ کرنے لگے کہ گویا یہ میرا اپنا مال ہے۔مجھے ایک حادثہ بھی پیش آیا کہ میرا ایک ٹرک، ڈرائیور کو نیند آ جانے کی وجہ سے حادثہ کا شکار ہو گیا اور ٹوٹ گیا۔ جب اس نے معذرت کی تو میں نے اسے معاف کر دیا۔
ٹریفک پولیس والا میری اس کشادہ دلی سے بہت حیران ہوا اور اس نے میرے حسن سلوک کا صلہ دینے کا عزم کر لیا۔ چند سال بعد اس ٹریفک پولیس والے کا منصب بڑھ گیا، وہ میرے پاس بہت سا سامان لایا، سپلائی کرنے والے اڈے اور بھی تھے، مگر اس نے میرا ہی انتخاب کیا کہ میں یہ مال سپلائی کروں اور پھر اس نے بھاؤ بھی کم نہ دیا تھا۔
اپنے برادر گرامی قدر محترم قاری صاحبان کی خدمت میں درخواست ہے کہ دیکھیں اس کے لیے کس طر رزق کے دروازے کھول دئیے گئے، اب وہ بہت بڑا تاجر ہے۔ اب فقراء کے خیر و فلاح کے اداروں میں، بہت بڑا حصہ اس کے مال کا صرف ہو رہا ہے۔ بات وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر حرام میں سے کچھ چھوڑے گا اللہ تعالیٰ اس کا صلہ ضرور دیتے ہیں۔



















































