محل کے محافظ نے تین آدمیوں کو محل کے دروازے کی طرف بڑھتے دیکھا تو چلا اٹھا۔ ’’خبردار، رک جاؤ!‘‘تینوں ٹھٹھک کر رک گئے۔ رات کا وقت تھا اور وہ محل تھا حجاج بن یوسف کا، جس کے ظلم سے اچھے اچھے گھبراتے تھے۔ محافظ کو اس نے حکم دے رکھا تھا کہ رات کے وقت کوئی اس طرح آئے تو اسے گرفتار کر لیا جائے۔ ان تینوں کو دیکھ کر محافظ کے دل میں نہ جانے کیوں رحم جاگ اٹھا۔
اس نے ان میں سے ایک سے پوچھا۔ ’’تم کون ہو؟‘‘اس نے جواب دیا۔ ’’میں اس شخص کا بیٹا ہوں جس کے آگے چھوٹے بڑے سب سر جھکاتے ہیں۔‘‘محافظ نے خیال کیا وہ امیر المومنین کا بیٹا ہے۔ دوسرے سے پوچھا۔ ’’تم کون ہو؟‘‘ تو اس نے بتایا۔ ’’میں اس شخص کا بیٹا ہوں جس کی ہانڈی ہمیشہ چولہے پر چڑھتی رہتی ہے۔ اگر نیچے اترتی ہے تو فوراً اوپر چڑھ جاتی ہے۔‘‘محافظ نے خیال کیا، یہ کسی بہت بڑے سخی کا بیٹا ہے۔تیسرے سے پوچھا تو اس نے کہا۔ ’’میں اس شخص کا بیٹا ہوں جس کا پاؤں ہمیشہ رکاب میں رہتا ہے اور وہ صفوں میں گھس جاتا ہے۔‘‘محافظ نے خیال کیا، یہ کسی بہت بڑے مجاہد کا بیٹا ہے۔ اس نے ان کا راستہ چھوڑ دیا۔ صبح وہ باغ کے ایک کونے میں پڑے نظر آئے۔ دن کی روشنی میں اسے اندازہ ہوا، وہ تو کوئی عام سے نوجوان ہیں۔ اس نے حیران ہو کر پہلے سے پوچھا۔ ’’تم کس کے بیٹے ہو؟‘‘اس نے بتایا کہ ’’وہ ایک نائی کا بیٹا ہے۔‘‘ بات اس نے غلط نہیں کہی تھی۔ نائی کے آگے بڑے چھوٹے سب سر جھکاتے ہیں اور پیسے بھی دیتے ہیں۔دوسرے سے پوچھا ’’تم کس کے بیٹے ہو؟‘‘ اس نے کہا ’’میں چنے بیچنے والی کا بیٹا ہوں۔‘‘اس کی ہانڈی چولہے پر چڑھی رہتی ہے۔ یعنی ہر وقت چنے بھون کر دیتا ہے۔تیسرے سے پوچھا ’’تم کس کے بیٹے ہو؟‘‘اس نے بتایا ’’وہ جولاہے کا بیٹا ہے۔‘‘
اس نے بھی درست کہا تھا۔ جولاہے کے پاؤں ہر وقت رکاب میں رہتے ہیں اور وہ دھاگوں کی صفوں میں گھس جاتا ہے۔یہ باتیں حجاج بن یوسف تک پہنچیں تو وہ ان کی عجیب و غریب بیان بازی پر حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔
خاموش رہنا بہتر ہے
حضرت امام شافعیؒ کے بارے میں لکھا ہے کہ جب کوئی شخص آ کر ان سے سوال کرتا تو بعض اوقات امام صاحب دیر تک خاموش رہتے۔ کوئی جواب نہ دیتے۔
کسی نے ان سے پوچھا کہ ’’حضرت! اتنی دیر ہو گئی، آپ کچھ بول ہی نہیں رہے، کوئی جواب نہیں دے رہے ہیں!‘‘جواب میں فرمایا:حئی اعرف أن الفضل فی السکوت أوفی الکلام۔’’میں اس لیے خاموش ہوں کہ پہلے یہ دیکھ لوں کہ خاموش رہنا زیادہ بہتر ہے یا بولنا زیادہ بہتر ہے۔‘‘لہٰذا پہلے تول رہے ہیں کہ اب جو کلمہ بولوں گا، یہ میرے لیے فائدہ مند ہو گا یا نقصان دہ ہوگا، پہلے تولو، پھر بولو۔ جو کلمہ زبان سے نکالو، تول کر نکالو کہ یہ کلمہ کیسا ہے اورکتناہے؟ اور اس سے مجھے فائدہ پہنچے یا نقصان پہنچے گا۔



















































