اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

معصوم روشنی

datetime 4  مئی‬‮  2017 |

وہ ایک عرب ملک کا رہنے والا تھا۔ کوئی خاص مقصد حیات نا تھا صرف دنیا ہی دنیا تھی اللہ کیساتھ تعلق بھی کم ہی تھا۔ کتنی مدت سے مسجد جانا گوارا نہیں ہوا نہ ہی اللہ کے سامنے سجدہ کیا۔ وہ برے دوستوں کے ہمراہ شام سے صبح تک لہو ولعب اور بے کار کاموں میں مشغول رہتا اور بیوی کو گھر میں اکیلے چھوڑے رکھتا جو اس تنہائی سے خاصی تنگی اور پریشانی محسوس کرتی۔

نیک اور وفادار بیوی نے اپنے شوہر کو سمجھانے بجھانے اور صحیح راستے کی طرف لانے کی بہت کوششیں کی مگر بے فائدہ ثابت ہوئیں ۔ایک مرتبہ وہ لہولعب کے کاموں میں شب بیداری کرنے کے بعد ۳ بحے گھر واپس آیا دیکھا اس کی بیوی اور چھوٹی بچی دونوں گہری نیند میں سورہے ہیں ۔نیند اس سے کوسوں دور تھی وہ انہیں بسترپر ہی چھوڑ کر دوسرے کمرے میں گیا اور فلموں اور بے حیاَئی کے کاموں میں مصروف ہوگیا۔اچانک اس کا دروازہ کھلا اور پانچ سالہ بیٹی باپ کے سامنے تھی بیٹی نے باپ کی طرف انتہائی تعجب کیساتھ حقارت آمیز نظروں سے دیکھا اور بولی :”یا بابا عیب علیک اتق اللہ”اباجاجان :آپ کے لیے یہ نہایت معیوب بات ہے آپ کو اللہ سے ڈرنا چاہیے یہ جملہ بچی نے تین بار دہرایا پھر دروازہ بند کر کے چلی گئی۔باپ پر بجلی بن گری بچی کی بات اور وہ سخت شرمندہ اور پشیمان ہوکر اٹھا اور فلموں کو بند کیا اور خود ہکا بکا ہو کر بیٹھ گیا ۔بچی کا جملہ اس کے دماغ میں گردش کر رہا تھا۔پھر وہ کمرے سے نکلا بچی بستر پر چاچکی تھی۔وہ حواس باختہ ہوگیا اور اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا اس وقت اس کو کونسی آفت نے آگھیرا ہے ساتھ ہی قریبی مسجد میں سے نکلنے والی آذان کی آوازاس کے کانوں میں ٹکرائی جو ڈراونی رات کے سکوت کو توڑ رہی تھی۔وہ جلدی سے اٹھا اور غیر ارادی طور پر وضو کیا اور مسجد جا پہنچا۔اسے نماز پڑھنے کی خواہش نا تھی بلکہ وہ اپنی بے چینی سے نمٹنے کی کوشش کررہا تھا۔

ابھی سجدے میں پہنچ کر پیشانی زمین پر رکھی ہی تھی کہ بلا سبب اس کی آنکھوں سے آنسوّوں کا ایک سیلاب امڈ آیا اور وہ سسکیاں لے کر رونے لگا۔ کئی سالوں بعد پہلی دفعہ اس کا ماتھا اپنے اللہ رب العالمین کے آگے جھکا تھا۔ اس آہ وزاری نے اس کو احساس دلایا کہ اب اس کے ایمان کی تازگی کا وقت آگیا ہے۔اس نے اپنے دل و دماغ سے تمام فسق و فجور سے متعلق باتوں کو باہر نکالا اور اللہ سے سچے دل سے توبہ کی۔اب اس کی زندگی کی کایہ پلٹ چکی تھی!فجر کی نماز ختم ہوگئی وہ تھوڑی دیر مسجد میں بیٹھا رہا پھر اپنے گھر کو واپس ہوا کچھ سوئے بغیر پوری تیاری کیساتھ ڈیوٹی پر چلا گیا۔جب آفس پہنچا اس کا منیجر تعجب سے دیکھنے لگا اور اتنے جلدی آنے کی وجہ پہنچی اس نے گزشتہ رات کا سارا واقعہ بتایا۔ منیجر نے کہا :’تم اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرو کہ اللہ نے تمہیں ایسی معصوم بچی سے نواز جس نے تمہیں ملک الموت کے آنے سے پہلے پہلےغفلت کی نیند سے بیدار کردیا۔ڈیوٹی ختم کرنے کے بعد وہ جلدی جلدی گھر کو روانہ ہوا تاکہ اپنی بیٹی سے مل سکے جو اس کی ہدایت کا سبب بنی ۔وہ گھر داخل ہوا تو اس کی بیوی نے زار و قطار آنسو بہاتے ہوئے اس کا استقبال کیا اس نے پوچھا کیوں رو رہی ہو ؟بیوی نے چیختے ہوئے جواب دیا ۔تمہاری بیٹی حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے وفات پاگئی ہے ۔اس خبر کے صدمے نے باپ کے اوسان خطا کردئیے۔وہ خود پر قابو نا پاسکا اور چیخ چیخ کر رونے لگا

۔تھوڑی دیر بعد جب قدرے اطمینان ہوا اس کو سمجھ میں بات آئی کہ جو کچھ بھی ہوا ہے اللہ تعالی کی طرف سے ابتلاٰ و آزمائش ہے ۔اللہ تعالی اس کا امتحان لینا چاہتا ہے۔اس نے دوست کو فون کر کے بلایا بچی کو غسل دیاگیا ۔عزیز و اقارب جنازہ پڑھ کر دفن کرنے گئے تو اس نے اپنے ہاتھوں سے بچی کو قبر میں اتارا اوراس کی آنکھیں اشکبار تھیں وہ بولا:” میں اپنی بیٹی کو نہیں بلکہ روشنی کو دفن کر رہا ہوں جس نے میری زندگی کی اندھیری رات کو روشنی میں بدل دیا۔ میں اس روشنی کو دفن کررہا ہوں جس کی شعاعوں نے میری زندگی کی کایا پلٹ دی اور جو مجھے فسق و فجور کی تاریکیوں سے نکال کر ایمان و عمل کی دنیا میں لے آئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…