گلستان میں واقعہ ہے کہ ایک بادشاہ کے یہاں ایک درویش پہنچے، کوئی بات ان کی ناگوار ہوئی۔ انہوں نے کہا ’’بند کر دو۔‘‘ وہ ہنس پڑے۔بادشاہ نے کہا ’’اچھا، ہنستے ہو۔ ساری عمر جیل میں بند رکھوں۔‘‘ وہ پھر ہنسے۔اس نے ہنسنے کی وجہ پوچھی، فرمایا کہ ’’مجھے یہ نہیں معلوم کتنی عمر میری ہے، چاہے قید میں گزرے چاہے باہر گزرے، اس میں کیا فرق پڑتا ہے،
مجھے اس میں کوئی خوشی یا غم نہیں۔‘‘ اور فرمایا ’’دنیا کی زندگی کے بعد آگے تیرے بس میں نہیں ہے، تو اتنی قلیل مدت کی کیا پرواہ ہے جس طرح بھی گزر جائے۔‘‘جیسے موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں جادوگر جب ایمان لائے اور فرعون نے ان کو دھمکایا تو وہ کہنے لگے ’’ہم کو کیا ہے، جو تیرا جی چاہے کر لے۔ ہم اس سے نہ پھریں گے۔‘‘ یہ جب ہوتا ہے، جب آدمی عادی بنا لے۔ نفس کے خلاف سننے کا تو سارا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔
حالات کے موافق اپنی حالت درست رکھو
امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے بوسیدہ اور پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک شخص کو اپنی مجلس میں دیکھا تو فرمایا۔ ’’یہ جائے نماز اٹھاؤ، اس کے نیچے جو کچھ رکھا ہے، لے لو۔۔۔ یہ سب تمہارا ہے۔‘‘اس نے جائے نماز کو اٹھایا تو حیران رہ گیا۔ جائے نماز کے نیچے ایک ہزار درہم پڑے تھے۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا۔ ’’یہ سب لے جاؤ اور اس سے اپنی حالت درست کرو۔‘‘وہ شخص کہنے لگا۔ ’’حضرت! میں تو مالدار آدمی ہوں، اللہ نے مجھے بہت سی نعمتیں دی ہیں، مجھے ان دراہم کی ضرورت نہیں۔‘‘اس کی بات سن کر امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ فرمانے لگے۔
’’کیا تم نے وہ حدیث نہیں سنی کہ ا للہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتا ہے کہ اس کے بندوں پر اللہ کی نعمتوں کے آثار ایک دوسرے کو نظر آئیں۔ تمہیں چاہیے کہ اپنی حالت ٹھیک رکھو تاکہ تمہیں دیکھ کر تمہارا کوئی دوست غم زدہ نہ ہو۔‘‘



















































