ایک بادشاہ قوم بنی اسرائیل سے بہت بڑا ظالم تھا۔ طرح طرح کی بنیاد ظلم کی ڈالتا تھا۔ چنانچہ ایک مکان بنانا شروع کیا۔ ملازموں کو حکم دیا کہ حاملہ عورتوں سے اینٹ گارا ڈلواؤ اور جلد تیار کراؤ۔ ناگاہ ایک عورت حاملہ کے دن پورے ہو چکے تھے۔ اس کو پکڑا، ہرچند اس نے عذر کیا کہ مجھ کو ذرا مہلت دو کہ میں جننے کے درد سے نجات پاؤں۔ پھر میں تمہارے کام میں مستعد رہوں گی۔
ظالم ملازموں نے نہ مانا، بلکہ اس کو مارنا پیٹنا شروع کیا۔ اس مصیبت زدہ کو دکھ اور درد سے اٹھنا بیٹھنا بھی دشوار تھا۔ سر پر بوجھ اٹھانے کا کیا ذکر۔ آخر کار جب اس کی طرف سے مار دھاڑ ہونے لگی۔ اس کو اپنی زندگی پہاڑ لگنے لگی۔ جان سے تنگ آ کر جناب الٰہی میں بکمال نالہ و آہ رو کر کہنے لگی کہ ’’اے میرے مالک تیری لونڈی اس مصیبت و آفت میں گرفتار ہے۔ اس حال سراپا و بال میں سوا تیرے کون اس کا غمگسار ہے کیا تو اس حال سے خبردار نہیں ہے۔ ایسی زندگی سے موت بھلی ہے۔‘‘ پھر یکایک قہر الٰہی نازل ہوا کہ وہ بادشاہ ظالم مع سب دربار کے فوراً زمین میں دھنس گیا۔
اذان میں اکبر کی جگہ اکبار کہنا
حضرت مخدوم جہانیاں رحمتہ اللہ علیہ ایک روز جامع مسجد میں نماز پڑھنے تشریف لے گئے۔ مؤذن نے اذان میں ’’اکبر‘‘ کی جگہ ’’اکبار‘‘ کہا۔ آپ نے فرمایا۔ ’’یہ کفر ہے، کیونکہ اکبار شیطان کے ناموں سے ایک نام ہے۔‘‘ قاضی القضاۃ صدر جہاں کی توجہ اس طرف دلائی۔بادشاہ کو خبر ہوئی تو اس نے مؤذن کو طلب کیا۔ اس بے چارے کی جان پر بن گئی۔ پریشان حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا اور شاہی عتاب سے بچانے کی التجا کی۔آپ نے اس کی کمر پردست شفقت پھیر کر دلجوئی کی اور فرمایا،
’’میں بادشاہ سے کہوں گا کہ تمہیں اپنے کام پر بحال رکھے لیکن ’’اکبار‘‘ نہ کہنا اور نہ حئی علی الصلوٰۃ کے بجائے حیا علی الصلوٰۃ کہنا، کیونکہ اس سے معنی بدل جاتے ہیں۔‘‘
کیا ہی اچھا ہوتا کہ تو سو جاتا
شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک روز چند لوگوں کی جو تہجد کے وقت سو رہے تھے، غیبت کی اور کہا کہ ’’اچھا ہوتا اگر یہ لوگ بھی نماز پڑھتے۔‘‘سعدی رحمتہ اللہ علیہ کے والد نے کہا ’’کیا اچھا ہوتا اگر تو بھی سو جاتا اور اس غیبت سے بچتا۔‘‘



















































