اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

لمبی لمبی قبریں

datetime 4  مئی‬‮  2017 |

دنیا میں بہت سے ایسے مقامات ہیں جہاں غیر معمولی طویل قبریں موجود ہیں۔ ان قبروں کی لمبائی کی وجہ کیا ہے، کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ جن حضرات کی طرف یہ قبریں منسوب ہیں۔ ان کے قد اتنے لمبے تھے؟ یا یہ فرضی مقامات ہیں جنہیں کسی مصلحت سے طویل قبروں کی شکل دے دی گئی۔ٹونک (راجستھان انڈیا) میں ایک نوگز کی قبر ہے اسے ’’نوگزا‘‘ ہی کہا جاتا ہے۔

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ یہ کسی بزرگ کا مزار ہے جس کا قدر نو گز لمبا تھا۔بعض محقق یہ کہتے ہیں کہ یہ کسی کا مزار نہیں، محمود غزنوی جب ہندوستان سے واپس جا رہا تھا تو اس نے اپنی ضرورت سے زیادہ ہتھیار اس جگہ دفن کر دیے تھے اور قبر کی شکل اس لیے دے دی تھی کہ مسلمان قبر کا احترام کرتے ہیں، اسے کھودتے نہیں۔ ٹھٹھہ کے مکلی پہاڑ پر ایک لمبی قبر ہے جس کے بارے میں عوام میں مشہور ہے کہ عبداللہ شاہ صحابہ کی قبر ہے۔تقریباً چالیس سال پہلے ٹھٹھہ کی کسی تاریخ میں پڑھا تھا کہ وہاں بزرگوں کو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی نے خواب میں یہ حکم دیا کہ میرے فرزند کی قبر کے آثار مٹتے جا رہے ہیں، انہیں تازہ کرو وہ بزرگ اس جگہ مراقب ہوئے لیکن انہیں قبرکا صحیح مقام نظر نہ آیا، بلکہ صرف اتنا معلوم ہو سکا کہ اس جگہ سے اس جگہ تک کہیں قبر ہے۔ انہوں نے نشانات لگا دیے۔ قبر کی لمبائی کی یہی وجہ ہے۔میں نے شام کے سفر میں دمشق سے تقریباً 45 کلومیٹر فاصلہ پر واقع حضرت ہابیل کی قبر دیکھی۔ جنہیں ان کے بھائی قابیل نے قتل کر دیا تھا۔ یہ قبر میرے اندازے سے تقریباً سات آٹھ گز لمبی ہے۔ دو روز حضرت ہابیل کو نبی مانتے ہیں اور بکثرت اس قبر کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ یہ قبر ان کے قد کے مطابق ہو۔

اس لیے کہ وہ براہ راست حضرت آدم علیہ السلام کے صاحبزادے ہیں اور صحیح حدیث کی رو سے حضرت آدم کا قد ساٹھ ذراع (ہاتھ) لمبا تھا۔ایک صاحب سے ذکر کیا تو فرمایا کہ اس زمانے کے قد اتنے لمبے ہی ہوا کرتے تھے۔ میں نے کہا کہ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ حضرت شعیب علیہ السلام فرعون کے دور کے ہیں اور فرعون کی حنوط شدہ نعش اور دوسرے فراعنہ اور شاہی خاندان کے دوسرے افراد کے حنوط شدہ اجسام (Mumies) مصر کے عجائب گھر میں اب تک محفوظ ہیں،

اور ان کے قد ہمارے قدوں جیسے ہی ہیں۔پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام طویل القامت ضرور تھے، لیکن اس کے بارے میں بھی کوئی روایت ایسی نہیں ملتی کہ ان کا قد غیر معمولی طویل ہو۔حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت شعیب علیہ السلام کے داماد ہیں۔ اگر حضرت شعیب علیہ السلام کا قد واقعتاً اتنا طویل یعنی آٹھ گز یا چوبیس فٹ تھا تو ان کی صاحبزادی کا قد اوسطاً پندرہ فٹ تو ہونا چاہیے۔

پھر اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام آٹھ دس فٹ کے ہوں تو پندرہ فٹ کی عورت سے ان کی شادی سمجھ میں نہیں آتی۔بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی نبوی عظمت کا لحاظ کرتے ہوئے احتراماً ان کی قبر لمبی بنائی گئی ہے۔ واللہ اعلم۔ ہمارے زمانے کے بڑے آدمیوں کے ڈرائینگ روم بھی تو بڑے ہوتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…