اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

اللہ کے لیے دوسری محبت چھوڑنا آسان

datetime 4  مئی‬‮  2017 |

حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کی ایک بات یاد آ گئی۔ وہ یہ کہ ایک مرتبہ آپ نے حاضرین مجلس سے فرمایا کہ آج اللہ نے اپنے امتحان کا ایک عجیب موقع عطا فرمایا۔ وہ یہ کہ جب میں گھر گیا اور اہلیہ سے بات کی تو اہلیہ نے تلخ لہجے میں کوئی بات کہہ دی۔

اس وقت میرے منہ سے یہ نکلا کہ ’’بی بی مجھے اس لہجے کی برداشت نہیں اور اگر تم کہو تو میں یہ کرنے کے لیے تیار ہوں کہ اپنی چارپائی اٹھا کر خانقاہ میں ڈال لوں اور ساری عمر وہیں گزار دوں۔ لیکن مجھے اس لہجے کی برداشت نہیں۔‘‘حضرت نے فرمایا کہ میں نے اپنی اہلیہ سے یہ بات تو کہہ دی لیکن بعد میں، میں نے سوچا اور اپنا جائزہ لیا کہ بڑی بات کہہ دی کہ چارپائی اٹھا کر خانقاہ میں ڈال دوں اور ساری عمر اس میں گزار دوں۔ کیا تم اس کام کے کرنے پر قادر بھی ہو؟ اگر اہلیہ کہہ دے کہ چلو ایسا کر لو تو کیا ایسا کر لو گے؟ اور ساری عمر خانقاہ میں گزار دو گے، یا ویسے ہی جھوٹا دعویٰ کر دیا؟لیکن جائزہ لینے کے بعد یہ محسوس ہوا کہ الحمداللہ میں اس کام پر قادر ہوں۔ چونکہ ساری محبتیں اللہ کے لیے ہو گئی ہیں، اس لیے اب اگر کسی وقت اللہ کی محبت کی خاطر دوسری محبت کو چھوڑنا پڑے تو اس وقت کوئی ناقابل برداشت بوجھ نہیں ہوگا۔ کیونکہ وہ محبت تبدیل ہو کر اللہ کے لیے محبت بن گئی ہے۔لیکن یہ مقام اتنی آسانی سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے محنت اور مشق کرنا پڑتی ہے اور یہ محنت اور مشق ایسی چیز نہیں ہے جو ناممکن ہو، بلکہ ہر انسان کر سکتا ہے۔ پھر اس محنت اور مشق کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ مقام عطا فرما دیتے ہیں۔ وہ کرکے دیکھنے کی بات ہے۔ یہ سب ’’احب اللہ‘‘ اللہ کے لیے محبت میں داخل ہے۔

میری محبت زیادہ ہوتی جائے گی
ایک دفعہ محمد بن واسع رحمتہ اللہ علیہ کے پاؤں میں سخت پھنسی نکلی، تو ان کے ایک دوست نے کہا۔ ’’بخدا مجھے یہ حال دیکھ کر تم پر رحم آتا ہے۔‘‘محمد بن واسع نے جواب دیا۔ ’’اگر تو مجھ سے محبت رکھتا ہے تو میرے ساتھ اللہ کا شکر ادا کر کہ یہ پھنسی میری زبان یا آنکھ میں یا پستان میں یا بغل کے نیچے یا شرم گاہ میں نہیں نکلی۔‘‘

بشر حارث رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے اپنی سیاحت میں ایک مجذوم کو پایا جو اندھا اور دیوانہ بھی تھا۔ دھوپ میں پڑاتھا، جوئیں اس کا گوشت نوچ کر کھا رہی تھیں، میں نے اس کا سر اٹھا کر گود میں رکھ لیا۔ جب اسے ہوش آیا تو کہنے لگا ’’یہ بے ہودہ کون ہے جو میرے اور میرے پروردگار کے درمیان داخل ہوتا ہے؟ مجھے اللہ کے جلال اور عزت کی قسم، اگر اللہ تعالیٰ میرا جوڑ جوڑ جدا کر دے تو بھی میری محبت اس کے ساتھ زیادہ ہوتی جائے گی۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…