ان کے ہاں ایک خوب صورت بیٹا پیدا ہوا ہے۔ انہوں نے اس کا نام نعمان رکھا۔ وہ ایک دیندار عالم تھے۔ انہوں نے آہستہ آہستہ محسوس کرنا شروع کیا۔ ان کا بیٹا بہت ہونہار ہے، نیک ہے، برے بچوں میں قطعاً نہیں کھیلتا، نہ کسی کو گالی دیتا ہے، نہ جھوٹ بولتا ہے، بلکہ اسے علماء کے پاس بیٹھنے کا شوق ہے جب اس نے قرآن مجید اور دوسرے علوم اپنے شہر کے عالموں سے پڑھ لیے تو دوسرے شہر پڑھنے کے لیے چلا گیا۔
اس نے علم حاصل کرنے کے لیے ہزاروں میل کا سفر کیا۔ یہاں تک کہ اس کے پاؤ میں چھالے پڑ گئے۔ آخر کار علم حاصل کرتے کرتے یہ لڑکا عالم بن گیا، اپنے علم میں اس قدر بڑھا کہ امام اعظم کے نام سے مشہور ہوا۔اب آپ جان گئے ہوں گے کہ ہم کن کا ذکر کر رہے ہیں۔ جی ہاں، حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اللہ کا۔ انہوں نے فضول کاموں میں اپنا بچپن ضائع نہیں کیا، نیک لوگوں کی محفلوں میں بیٹھے، اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ امام اعظم بنے۔آپ جانتے ہوں گے، سب سے بڑی نیکی اللہ کا خوف ہے۔ جتنا کسی شخص کو اللہ کا خوف ہو گا، اتنا ہی زیادہ وہ نیکی کرے گا، عبادت کرے گا۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ میں بھی اللہ کا خوف بہت زیادہ تھا۔ آپ نے چالیس سال تک عشاء کے وضو سے فجر کی نماز ادا کی، یعنی چالیس سال تک رات کو سوئے نہیں۔ آپ نے 55 حج کیے۔ یہ سب اسی وجہ سے تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بچپن ہی سے نیکی کا جذبہ عطا فرمایا تھا۔ آج جو ہم خود کو حنفی کہتے ہیں۔ انہی کی نسبت سے کہتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ فقہ کے امام تھے۔ ان کی فقہ پوری دنیا میں فقہ حنفی کے نام سے مشہور ہوئی اور ایک دنیا نے ان کی فقہ پرعمل کیا اور کر ری ہے۔ اسلامی دنیا میں حنفی مسلک کے لوگ سب سے زیادہ ہیں۔
ساری رات سردی میں ذکر کرتے رہے
حضرت ابراہیم بن ادہم کے فضل و کمال اور زہد و ورع کا چرچا آپ کی زندگی ہی میں ضرب المثل ہو گیا تھا۔ ایک دفعہ وہ مسافرت کی حالت میں رات کے وقت جامع دمشق پہنچے۔ نماز عشاء کے بعد مسجد کا دروازہ بند کر دیا جاتا تھا۔ ابراہیمؒ نے امام مسجد سے درخوست کی کہ ’’مجھے شب کو مسجد ہی میں رہنے دیا جائے کیونکہ میں نے کچھ ذکر اذکار کرنا ہے۔‘‘
امام صاحب کو غصہ آ گیا اور انہوں نے طنزاً کہا کہ ’’تو ابراہیم ادھمؒ ہی تو ہے، چل یہاں سے۔‘‘یہ کہہ کر انہیں مسجد سے باہر کر دیا۔ حضرت ساری رات سخت سردی میں مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھے عبادت میں مشغول رہے۔ نماز فجر کے وقت مسجد کا دروازہ کھلا تو اندر چلے گئے۔ نماز کے بعد کچھ لوگوں نے آپ کو پہچان لیا اور شور مچ گیا کہ ابراہیم ادھمؒ تشریف لائے ہیں۔ ہر طرف سے لوگ ان کی زیارت کے لیے ٹوٹ پڑے۔ امام صاحب بہت شرمندہ ہوئے۔ بار بار حضرت سے معذرت کرتے تھے اور آپ فرماتے تھے کہ ’’معذرت کس بات کی۔ آپ نے اپنا فرض ادا کیا۔‘‘



















































