دہلی کا بادشاہ ایک ہرن کا پیچھا کر رہا تھا۔ ہرن بھی برق رفتار تھا۔ آخر وہ گھنی جھاڑیوں میں گھس گیا اور گھوڑا ناکام ہو گیا۔ اب بادشاہ جنگل میں تنہا تھا اور اسے شدید پیاس لگی تھی۔ گھوڑا بھی پیاسا تھا۔ وہ پانی کی تلاش میں ادھر گیا، ادھر گیا، آخر ایک جھونپڑی نظر آئی، اس کے باہر ایک نوجوان بیٹھا تھا۔ بادشاہ نے اس سے کہا۔ ’’پانی ملے گا۔‘‘
نوجوان نے بادشاہ کا لباس دیکھا، گھوڑا دیکھا تو محسوس کر لیا کہ کوئی بڑا آدمی ہے۔ بولا ’’تھوڑا سا پانی ہے، پیش کر دیتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھا اور خیمے میں سے پانی نکال لایا۔ بادشاہ نے احسان بھری نظروں سے اسے دیکھا اور بولا۔ ’’میں دہلی کا بادشاہ شاہ جہاں ہوں، تم میرے محل میںآنا، تمہیں انعام و اکرام دوں گا۔‘‘ساتھ ہی بادشاہ نے ایک کاغذ پر دستخط کرکے کاغذ اسے دے دیا تاکہ کوئی اسے نہ روکے۔ ایک دن نوجوان کو خیال آیا، کیوں نہ چل کر بادشاہ سے انعام و اکرام حاصل کیا جائے۔ اس خیال کے آنے پر اس نے دہلی کا رخ کیا۔ آخر بادشاہ کے محل تک جا پہنچا۔ بادشاہ کے دستخط دکھائے تو دربان اسے اندر لے چلا۔ دور سے اس نے دیکھا، شاہ جہان ایک جھروکے میں ہاتھ پھیلائے بیٹھا ہے، دعا کر رہا ہے۔نوجوان نے دربان سے پوچھا۔ ’’بادشاہ سلامت کیا کر رہے ہیں؟‘‘’’یہ اپنے اللہ سے مانگ رہے ہیں۔‘‘ دربان نے جواب دیا۔’’لیکن یہ تو خود بادشاہ ہیں، انہیں مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ نوجوان نے کہا۔’’سبھی اللہ سے مانگتے ہیں۔۔۔ وہی سب کو دیتا ہے۔‘‘ دربان نے جواب دیا۔’’یہ سن کر نوجوان نے کہا۔ ’’اگر یہ بات ہے تو پھر مجھے جانے دو۔‘‘’’کیوں۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ بادشاہ سلامت سے ملنے کے لیے آئے اور بغیر ملے جا رہے ہو؟‘‘ دربان نے پوچھا۔’’ہاں! جا رہا ہوں۔۔۔ تم مجھے جانے دو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مڑا اور باہر کی طرف چل دیا۔
اتنے میں بادشاہ دعا سے فارغ ہو گیا۔ اسے نوجوان کے بارے میں بتایا گیا۔ بادشاہ تو خود اس کا انتظار کرتا رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا، اسے انعام دے۔ اس نے فوراً دربانوں کو اس کی طرف دوڑایا، وہ اسے واپس بادشاہ کے پاس لے آئے۔ اب بادشاہ نے پوچھا۔ ’’تم مجھ سے ملنے کے لیے آئے اور ملے بغیر واپس چل دئیے، آخر یہ بات کیا ہوئی؟‘‘
نوجوان نے کہا۔ ’’بادشاہ سلامت! میں آپ سے انعام لینے آیا تھا۔۔۔ آپ اتنے بڑے بادشاہ ہیں، اس کے باوجود آپ خود اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے بیٹھے تھے۔ یہ دیکھ کر میں نے سوچا۔۔۔ تب پھر میں بھی اس سے کیوں نہ مانگوں جس سے آپ مانگ رہے ہیں، جو آپ سے بھی بڑا ہے۔‘‘نوجوان کا جواب سن کر بادشاہ اور دوسرے لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔



















































