اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

میں تو اس سے مانگوں گا جو آپ سے بھی بڑا ہے

datetime 3  مئی‬‮  2017 |

دہلی کا بادشاہ ایک ہرن کا پیچھا کر رہا تھا۔ ہرن بھی برق رفتار تھا۔ آخر وہ گھنی جھاڑیوں میں گھس گیا اور گھوڑا ناکام ہو گیا۔ اب بادشاہ جنگل میں تنہا تھا اور اسے شدید پیاس لگی تھی۔ گھوڑا بھی پیاسا تھا۔ وہ پانی کی تلاش میں ادھر گیا، ادھر گیا، آخر ایک جھونپڑی نظر آئی، اس کے باہر ایک نوجوان بیٹھا تھا۔ بادشاہ نے اس سے کہا۔ ’’پانی ملے گا۔‘‘

نوجوان نے بادشاہ کا لباس دیکھا، گھوڑا دیکھا تو محسوس کر لیا کہ کوئی بڑا آدمی ہے۔ بولا ’’تھوڑا سا پانی ہے، پیش کر دیتا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر وہ اٹھا اور خیمے میں سے پانی نکال لایا۔ بادشاہ نے احسان بھری نظروں سے اسے دیکھا اور بولا۔ ’’میں دہلی کا بادشاہ شاہ جہاں ہوں، تم میرے محل میںآنا، تمہیں انعام و اکرام دوں گا۔‘‘ساتھ ہی بادشاہ نے ایک کاغذ پر دستخط کرکے کاغذ اسے دے دیا تاکہ کوئی اسے نہ روکے۔ ایک دن نوجوان کو خیال آیا، کیوں نہ چل کر بادشاہ سے انعام و اکرام حاصل کیا جائے۔ اس خیال کے آنے پر اس نے دہلی کا رخ کیا۔ آخر بادشاہ کے محل تک جا پہنچا۔ بادشاہ کے دستخط دکھائے تو دربان اسے اندر لے چلا۔ دور سے اس نے دیکھا، شاہ جہان ایک جھروکے میں ہاتھ پھیلائے بیٹھا ہے، دعا کر رہا ہے۔نوجوان نے دربان سے پوچھا۔ ’’بادشاہ سلامت کیا کر رہے ہیں؟‘‘’’یہ اپنے اللہ سے مانگ رہے ہیں۔‘‘ دربان نے جواب دیا۔’’لیکن یہ تو خود بادشاہ ہیں، انہیں مانگنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ نوجوان نے کہا۔’’سبھی اللہ سے مانگتے ہیں۔۔۔ وہی سب کو دیتا ہے۔‘‘ دربان نے جواب دیا۔’’یہ سن کر نوجوان نے کہا۔ ’’اگر یہ بات ہے تو پھر مجھے جانے دو۔‘‘’’کیوں۔۔۔ کیا ہوا۔۔۔ بادشاہ سلامت سے ملنے کے لیے آئے اور بغیر ملے جا رہے ہو؟‘‘ دربان نے پوچھا۔’’ہاں! جا رہا ہوں۔۔۔ تم مجھے جانے دو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مڑا اور باہر کی طرف چل دیا۔

اتنے میں بادشاہ دعا سے فارغ ہو گیا۔ اسے نوجوان کے بارے میں بتایا گیا۔ بادشاہ تو خود اس کا انتظار کرتا رہا تھا۔ وہ چاہتا تھا، اسے انعام دے۔ اس نے فوراً دربانوں کو اس کی طرف دوڑایا، وہ اسے واپس بادشاہ کے پاس لے آئے۔ اب بادشاہ نے پوچھا۔ ’’تم مجھ سے ملنے کے لیے آئے اور ملے بغیر واپس چل دئیے، آخر یہ بات کیا ہوئی؟‘‘

نوجوان نے کہا۔ ’’بادشاہ سلامت! میں آپ سے انعام لینے آیا تھا۔۔۔ آپ اتنے بڑے بادشاہ ہیں، اس کے باوجود آپ خود اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے بیٹھے تھے۔ یہ دیکھ کر میں نے سوچا۔۔۔ تب پھر میں بھی اس سے کیوں نہ مانگوں جس سے آپ مانگ رہے ہیں، جو آپ سے بھی بڑا ہے۔‘‘نوجوان کا جواب سن کر بادشاہ اور دوسرے لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…