ایک عالم نے پچاس برس حق تعالیٰ شانہ کی رحمت کا وعظ کیا تھا، جب ان کا انتقال ہو گیا تو حق تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ ’’میرے اس بندے نے پچاس برس تک میرے بندوں کو میری رحمت کا وعظ سنایا ہے، مجھے شرم آتی ہے کہ میں اس بندے سے حساب لوں۔ لے جاؤ اس کو جنت میں داخل کر دو۔ میں نے اپنی رحمت سے اس کو بخش دیا۔‘‘
اہل ایمان کو ستانے والوں کا انجام
حضرت زید بن سمرہؒ فرماتے ہیں کہ ساحل سمندر کی طرح جہنم کے بھی کنارے ہیں، جن میں بختی اونٹوں جیسے سانپ اور خچروں جیسے بچھو رہتے ہیں۔ اہل جہنم جب عذاب ہلکا ہونے کی فریادیں کریں گے تو انہیں حکم ہو گا کہ کناروں سے باہر ہو جاؤ، وہ نکلنے لگیں گے تو وہ سانپ انہیں ہونٹوں اور چہروں سے پکڑ لیں گے اور ان کی کھال تک اتار دیں گے۔ وہ لوگ وہاں سے بچنے کے لیے پھر آگ کی طرف بھاگیں گے (پھر ان پر کھجلی مسلط ہو جائے گی کہ کھجلاتے کھجلاتے ہڈیاں تک تنگ ہو جائیں گی)۔ پوچھنے والا پوچھے گا ’’اور فلاں! کیا تکلیف بھی محسوس ہوتی ہے۔‘‘وہ کہے گا ’’ہاں۔‘‘تو کہا جائے گا کہ ’’یہ اس تکلیف کا عوض ہے جو تو اہل ایمان کو دیتا تھا۔‘‘ اس آیت کریمہ:زدنھم عذاباً فوق العذات بما کانوا یفسدون۔اور ہم بڑھاتے رہیں گے ان کا عذاب پر عذاب اس وجہ سے کہ وہ فساد کیا کرتے تھے۔‘‘
تین دن تک کھانا نہ کھایا
ایک روز ابراہیم ادہمؒ کسی شخص کے مکان پر دعوت میں گئے، جب دستر خوان پر بیٹھے، لوگوں نے ایک شخص کا نام لے کر کہا کہ فلاں شخص نہیں آئے۔ ایک آدمی نے کہا وہ بھاری ہے۔
اس سبب سے آنے میں دیر ہوئی۔ جب ابراہیمؒ نے یہ غیبت سنی تو اٹھ کر چلے گئے اور اپنے نفس سے کہنے لگے کہ ’’تیری وجہ سے یہ غیبت سننی پڑی، کیونکہ اگر تجھے بھوک نہ ہوتی تو دعوت میں جانے اور غیبت سننے کی نوبت نہ آتی۔‘‘ اس کے بعد تین روز تک کھانا نہیں کھایا اور نفس کو خوب ستایا۔ (اس کو ابواللیث نے تنبیہ الغافلین کے باب الغیبۃ میں نقل کیا ہے)۔



















































