بکر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک شخص ہمیشہ بادشاہ کے پاس بیٹھا کرتا تھا اور ہر روز اس کے سامنے کھڑا ہو کر یہی الفاظ دہراتا کہ ’’نیکوں کے ساتھ نیکی کرتے رہو اور بروں کو ان کے حال پر چھوڑ دو کہ ان کی بد کرداری بجائے خود ان کے لیے کافی ہے۔‘‘اور اس کی اسی بات نے اسے بادشاہ کا منظور نظر بنا رکھا تھا۔
ایک حاسد کی رگ حسد جو پھڑکی تو اس نے بادشاہ کے کان میں پھونک دیا کہ ’’(حضور والا) آپ کا وہ منظور نظر کہا کرتا ہے کہ بادشاہ کے منہ سے بدبو آتی ہے۔‘‘بادشاہ نے کہا ’’تمہارے اس بیان کے صحیح ہونے کا ثبوت ہے؟‘‘اس نے کہا کہ ’’اب کے اسے اپنے ذرا قریب بٹھا کر دیکھ لیجئے تو ملاحظہ فرمائیے گا کہ وہ اپنی ناک پر ہاتھ رکھے رہے گا تاکہ بدبو سے بچا رہے۔‘‘بادشاہ کے کان بھرنے کے بعد پھر وہ حاسد اس نیک آدمی کے پاس گیا اور اسے کھانا کھلایا۔ جس میں لہسن کی بو خاصی تیز تھی۔ اتنے میں بادشاہ نے اسے بلوا بھیجا۔ اس مرد نیک نے اس خیال سے کہ لہسن کی بو بادشاہ تک نہ پہنچے واقعی اپنے منہ میں ہاتھ رکھ لیا۔ تب تو بادشاہ کو اس حاسد کی بات کا پوری طرح یقین ہو گیا۔ اس بادشاہ کی عادت تھی کہ اپنے ہاتھ سے خلعت و انعام کا فرمان تحریر کرنے کے علاوہ کبھی کچھ نہ لکھتا تھا، لیکن اس روز (انتہائی غصہ کے تحت) اپنے ایک حامل کو لکھا کہ ’’حامل فرمان ہذا کا سر کاٹ کر اور اس کی کھال میں بھس بھروا کر میرے پاس بھیج دو۔‘‘وہ بادشاہ سے رخصت ہو کر وہاں سے باہر آیا تو حاسد نے پوچھا کہ ’’تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟‘‘اس نے کہا کہ ’’خلعت کا فرمان ہے۔‘‘حاسد نے کہا ’’یہ مجھے دے دو کہ مجھے اس کی ضرورت ہے۔‘‘اس نے وہ فرمان اس کے ہاتھ میں دے دیا۔ حاسد اسے لیے ہوئے عامل کے پاس پہنچا۔
اس نے پڑھنے کے بعد کہا کہ ’’اس میں یہ حکم درج ہے کہ میں تمہارا سر قلم کرکے تمہاری کھال میں بھوسہ بھروا دوں۔‘‘حاسد نے کہا ’’یہ حکم کسی اور کے لیے ہے، تم بے شک بادشاہ سے دوبارہ معلوم کروا لو۔‘‘عامل نے کہا کہ ’’شاہی فرمان کی مکرر تصدیق نہیں کروایا کرتے۔‘‘ یہ کہہ کر حاسد کا سر قلم کردیا۔وہ مرد نیک دوسرے دن حسب معمول بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بادشاہ کے سامنے کھڑے ہو کر وہی الفاظ پھر ایک مرتبہ دہرائے۔
بادشاہ اسے صحیح سلامت دیکھ کر بے حد متعجب ہوا اور پوچھا کہ ’’وہ خط کہاں گیا؟‘‘اس نے جواب دیا کہ ’’فلاں شخص نے مجھ سے لیا تھا۔‘‘بادشاہ نے کہا ’’یہ تو تم اسی شخص کا کہہ رہے ہو جس نے مجھے بتایا تھا کہ تم میرے خلاف یوں کہا کرتے ہو۔‘‘وہ بولا ’’میں نے کبھی ایسے الفاظ اپنے منہ سے نہیں نکالے۔‘‘ بادشاہ نے کہا کہ ’’(اگر تو نے نہیں کہے تھے تو) پھر تمہیں منہ اور ناک پر ہاتھ رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘
اس نے کہا کہ ’’اس حاسد نے مجھے کھانے میں اس قدر لہسن کھلا دیا تھا کہ خود میرے منہ سے بدبو آ رہی تھی (اور میں نے احتیاطاً منہ پر ہاتھ رکھ لیا تھا)۔‘‘بادشاہ نے کہا کہ ’’تو جو ہر روز کہا کرتا ہے کہ بدکردار کے لیے اس کی بدکرداری ہی کافی رہتی ہے، آج واقعی دیکھ لیا کہ اس بدکردار کی بدی ہی اس کے آگے آ گئی۔‘‘



















































