مفتی اعظم مولانا محمد شفیع رحمتہ اللہ علیہ نے معارف القرآن جلد پنجم سورۃ حجر کی تفسیر میں قرآن مجید کی حفاظت کے ذیل میں ایک حیرت انگیز واقعہ لکھا ہے۔ جس سے کتب سماوی کے مقابلہ میں حفاظت قرآن مجید کی ایک امتیازی شان کا اظہار ہوتا ہے۔ قارئین کی دلچسپی اور معلومات کے لیے یہ واقعہ پیش کیا جاتا ہے۔
امام قرطبی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک سند متصل کے ساتھ ایک واقعہ امیر المومنین مامون کے دربار کا نقل کیا ہے کہ مامون کی عادت تھی کہ کبھی اس کے دربار میں علمی مسائل پر بحث و مباحثے اور مذاکرے ہوا کرتے تھے، جس میں ہر اہل علم کو آنے کی اجازت تھی۔ ایسے ہی ایک مذاکرے میں ایک یہودی بھی آ گیا جو صورت و شکل اور لباس وغیرہ کے اعتبار سے بھی ایک ممتاز آدمی معلوم ہوتا تھا۔ پھر گفتگو کی تو وہ بھی فصیح و بلیغ اور عاقلانہ گفتگو تھی۔ جب مجلس ختم ہو گئی تو مامون نے اس کو بلا کر پوچھا کہ ’’تم اسرائیلی ہو؟‘‘ اس نے اقرار کیا۔ مامون نے (امتحان لینے کے لیے) کہا ’’اگر تم مسلمان ہو جاؤ تو ہم تمہارے ساتھ بہت اچھا سلوک کریں گے۔‘‘اس نے جواب دیا کہ ’’میں تو اپنے اور اپنے آباء و اجداد کے دین کو نہیں چھوڑتا۔‘‘ بات ختم ہو گئی۔ یہ شخص چلا گیا۔ پھر ایک سال کے بعد یہی شخص مسلمان ہو کر آیا اور مجلس مذاکرہ میں فقہ اسلامی کے موضوع پر بہترین تقریر اور عمدہ تحقیقات پیش کیں۔ مجلس ختم ہونے کے بعد مامون نے اس کو بلا کر کہا کہ ’’تم وہی شخص ہو جو سال گزشتہ آئے تھے؟‘‘جواب دیا۔ ’’ہاں، میں وہی ہوں۔‘‘مامون نے پوچھا کہ ’’اس وقت تو تم نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا، پھر اب مسلمان ہونے کا سبب کیا ہوا؟‘‘اس نے کہا کہ ’’میں یہاں سے لوٹا تو میں نے موجودہ مذاہب کی تحقیق کرنے کا ارادہ کیا۔
میں ایک خطاط اور خوش نویس آدمی ہوں، کتابیں لکھ کر فروخت کرتا ہوں تو اچھی قیمت میں فروخت ہو جاتی ہیں۔ میں نے آزمانے کے لیے تورات کے تین نسخے کتابت کیے، جن میں بہت جگہ اپنی طرف سے کمی بیشی کر دی اور یہ نسخے لے کر میں کنیسہ میں پہنچا۔ یہودیوں نے بڑی رغبت سے اس کو خرید لیا۔ پھر اسی طرح انجیل کے تین نسخے کمی بیشی کے ساتھ کتابت کرکے نصاریٰ کی عبادت خانے میں لے گیا۔
وہاں بھی عیسائیوں نے بڑی قدر و منزلت کے ساتھ یہ نسخے مجھ سے خرید لیے، پھر یہی کام میں نے قرآن مجید کے ساتھ کیا۔ اس کے بھی تین نسخے عمدہ کتابت کیے، جن میں اپنی طرف سے کمی بیشی کی، ان کو لے کر جب میں فروخت کرنے کے لیے نکلا تو جس کے پاس لے گیا اس نے دیکھا کہ صحیح بھی ہے یا نہیں، جب کمی بیشی نظر آئی تو اس نے مجھے واپس کر دیا۔
اس واقعہ سے میں نے یہ سبق لیا کہ یہ کتاب محفوظ ہے اور اللہ تعالیٰ ہی نے اس کی حفاظت کی ہوئی ہے۔ اس لیے مسلمان ہو گیا۔‘‘قاضی یحییٰ بن اکثم اس واقعہ کے راوی کہتے ہیں کہ اتفاقاً اسی سال مجھے حج کی توفیق ہوئی۔ وہاں سفیان بن عینیہ سے ملاقات ہوئی تو یہ قصہ ان کو سنایا۔ انہوں نے فرمایا کہ ’’بے شک ایسا ہی ہونا چاہیے کیونکہ اس کی تصدیق قرآن مجید میں موجود ہے۔‘‘
یحییٰ بن اکثم نے پوچھا ’’کون سی قرآن کی آیات ہیں؟‘‘فرمایا کہ ’’قرآن عظیم نے جہاں تورات و انجیل کا ذکر کیا ہے، اس میں تو فرمایا بما استحفظو من کتاب اللہ، یعنی یہود و نصاریٰ کو کتاب اللہ تورات و انجیل کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ یہی وجہ ہوئی کہ جب یہود و نصاریٰ نے فریضہ حفاظت ادا نہ کیا تو یہ کتابیں مسخ و محرف ہو کر ضائع ہو گئیں، بخلاف قرآن کریم کے کہ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔‘‘
اس لیے اس کی حفاظت حق تعالیٰ نے خود فرمائی۔‘‘تو دشمنوں کی ہزاروں کوششوں کے باوجود اس کے ایک نقطہ اور ایک زیر و زبر میں فرق نہ آ سکا۔ آج عہد رسالت کو بھی تقریباً چودہ سو برس ہو چکے ہیں۔ تمام دینی اور اسلامی امور میں مسلمانوں کی کوتاہی اور غفلت کے باوجود قرآن کریم کے حفظ کرنے کا سلسلہ تمام دنیا کے مشرق و مغرب میں اسی طرح قائم ہے۔ ہر زمانہ میں لاکھوں، بلکہ کروڑوں مسلمان جوان، بوڑھے، لڑکے اور لڑکیاں ایسے موجود ہیں جن کے سینوں میں پورا قرآن محفوظ ہے۔ کسی بڑے سے بڑے عالم کی بھی مجال نہیں کہ ایک حرف غلط پڑھ دے۔ اسی وقت بہت سے بڑے اور بچے اس کی غلطی پکڑ لیں گے۔



















































