چار رکعت فرض یا سنت مؤکدہ نماز میں جب دوسری رکعت پر بیٹھے ہیں تو صرف التحیات پڑھی جاتی ہے۔ درود شریف نہیں پڑھا جاتا۔ امام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص غلطی سے دوسری رکعت کے قعدہ میں التحیات کے ساتھ اللھم صل علی محمد تک پڑھ لے تو اس پرسجدہ سہو واجب ہو جاتا ہے۔
اس کے متعلق امام صاحب کا واقعہ منقول ہے اور یہ کہ ایک مرتبہ امام صاحب نے خواب میں آنحضرتؐ کی زیارت کی۔ حضورؐ نے دریافت فرمایا ’’جو شخص مجھ پر درود پڑھے، تم اس پر سجدہ سہو کو کیسے واجب کہتے ہو؟‘‘امام صاحب نے جواب دیا۔ ’’اس لیے کہ اس نے آپؐ پر درود بھول میں پڑھا ہے۔‘‘ آنحضرتؐ نے امام صاحب کے اس جواب کو پسند فرمایا۔
امام ابو حنیفہؒ کا مناظرہ
یہ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے دور کا واقعہ ہے کہ بغداد میں ایک رومی آیا۔ اس نے خلیفہ سے آ کر عرض کیا۔ ’’میرے یہ تین سوال ہیں، اگر آپ کی سلطنت میں کوئی موجود ہے تو بلائیے جو ان سوالوں کا جواب دے۔‘‘خلیفہ نے اعلان کرا دیا۔ سب علماء جمع ہوئے۔ امام صاحب رحمتہ اللہ بھی تشریف لائے۔ رومی ممبر پر چڑھا اور اس نے سوال کیے۔ ’’بتاؤ خدا سے پہلے کون تھا؟ بتاؤ خدا کا رخ کدھر ہے؟ بتاؤ اس وقت خدا کیا کر رہاہے؟‘‘یہ سن کر سب خاموش ہو گئے۔ امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ آگے بڑھے اور کہا ’’میں جواب دوں گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آپ ممبر سے نیچے آئیں۔‘‘رومی ممبر سے نیچے آ گیا۔ امام صاحب ممبر پر جا بیٹھے اور سوال دہرانے کو فرمایا۔ رومی نے سوالات دہرائے۔ امام صاحب نے فرمایا ’’گنتی شمار کرو۔‘‘
رومی نے گننا شروع کیا۔ امام صاحب نے روکا اور کہا ’’ایک سے پہلے گنو۔‘‘رومی نے کہا ’’ایک سے پہلے کوئی گنتی نہیں۔‘‘تو امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ’’تو خدا سے پہلے بھی کوئی نہیں ہے۔ اور دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے ایک شمع روشن کی اور فرمایا اس کارخ کدھر ہے؟رومی نے کہا ’’سب کی طرف۔‘‘امام صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ’’خدا کا رخ بھی سب طرف ہے۔ اور تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ اس وقت خدا نے تجھے نیچے اتار دیااور مجھے اوپر چڑھا دیا۔‘‘رومی یہ سن کر شرمندہ ہوااور واپس چلاگیا۔



















































