حضرت تھانوی رحمتہ اللہ علیہ کے متعلقین میں ایک بزرگ تھے، انگریزی تعلیم یافتہ تھے، مگر حضرت والا کی صحبت نصیب ہوئی تو ان کی وضع قطع بھی ایسی ہو گئی جیسے دیندار لوگوں کی اور مولویوں کی ہوتی ہے، چہرے پر داڑھی، لمبا کرتا وغیرہ۔ وہ ایک مرتبہ ریل میں سفر کر رہے تھے، ان کے قریب ہی دو آدمی اور بیٹھے تھے، وہ بھی انگریزی دان تھے،
وہ دونوں ان کا حلیہ دیکھ کر یہ سمجھے کہ یہ کوئی مولوی ہے، ان کو انگریزی کیا آتی ہو گی۔چنانچہ ان دونوں نے بیٹھ کر انہی کے بارے میں انگریزی میں باتیں کرنا شروع کر دیں۔ انگریزی میں باتیں کرنے کا مقصد ان سے چھپانا تھا کہ یہ ملا آدمی ہے، انگریزی کیا سمجھے گا۔ ابھی گفتگو شروع ہی کی تھی کہ یہ بزرگ سمجھ گئے کہ یہ دونوں صاحب مجھ سے چھپ کر کچھ باتیں کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے انگریزی میں باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوچا کہ یہ بات دیانت کے خلاف ہے کہ میں اسی طرح بیٹھ کر انکی باتیں سنتا رہوں۔ چنانچہ ان بزرگ نے ان دونوں سے کہہ دیا کہ ’’میں انگریزی جانتا ہوں، اگر آپ کو مجھ سے چھپ کر باتیں کرنی ہیں تو کوئی اور طریقہ اختیار کریں، اس دھوکے میں نہ رہیں کہ میں انگریزی نہیں جانتا، اگر آپ کہیں تو میں اٹھ کر چلا جاتا ہوں تاکہ آپ علیحدگی میں باتیں کر لیں۔‘‘بہرحال ان بزرگ کو یہ جو خیال آیا کہ یہ دونوں یہ سمجھ رہے ہیں کہ میں زبان نہیں جانتا اور مجھ سے چھپ کر باتیں کرنا چاہتے ہیں، اب اگر میں خاموش بیٹھا رہوں تو یہ ’’تجسس‘‘ میں داخل ہو جائے گا۔ یہ خیال ان کے ذہن میں کیوں پیدا ہوا؟ اس لیے کہ ’’تھانہ بھون‘‘ میں کچھ دن گزار لیے تھے اور حضرت والا کی صحبت نصیب ہو گئی تھی، ورنہ آج کیا کسی کے دل میں یہ خیال آئے گا کہ میں بتا دوں کہ جس زبان میں تم باتیں کر رہے ہو، میں یہ زبان جانتا ہوں۔
آج اگر کوئی یہ بات بتائے گا بھی تو اپنا علم جتانے کے لیے بتائے گا کہ ہمیں جاہل مت سمجھنا، ہمیں بھی یہ زبان آتی ہے۔ اس لیے نہیں بتائے گا کہ کہیں تجسس کے گناہ میں مبتلا ہو جاؤں، بلکہ آج کل تو اس کو کمال سمجھا جائے گا کہ چپکے چپکے بات سنتے رہیں اوربعد میں اس کا اظہار کریں گے کہ تم نے تو ہم سے چھپانے کی کوشش کی،
لیکن ہم کو سب پتہ چل گیا کہ آپ نے کیا کیا باتیں کیں۔بات یہ ہے کہ ان سب باتوں کا خیال کرنا دین کا ایک حصہ ہے، آج ہم نے ان کو دین سے خارج کر دیا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ فکر عطا فرما دیں تو پھر یہ سب باتیں سمجھ میں آنے لگتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان سب باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)



















































