تاریخ دکن میں (بعد سلطان علاء الدین بہمنی) مسلمانوں کی خود داری کا عجیب واقعہ درج ہے۔ لکھا ہے بیجانگر کے راجے سلاطین بہمنیہ کے باجگزار چلے آتے تھے اور جب کبھی وہ سر اٹھاتے تو مسلمان ان کو وہیں کچل دیتے تھے۔ 841 ہجری سے 847ہجری تک کے دمریان کا ذکر ہے کہ دیورائے راجہ بیجانگر نے اس خیال سے کہ مسلمان فن سپہ گری اور تیر اندازی کو خوب جانتے ہیں،
مسلمان نوکر رکھنے کی تجویز کی، لیکن یہ وہ زمانہ تھا کہ مسلمان اپنے عروج و اقبال کی وجہ سے دوسروں کی نوکری پسند نہیں کرتے تھے۔راجہ نے تالیف قلوب کے لیے یہ تجویز کی کہ بیجانگر میں ایک عالیشان مسجد بنوائی، شعائر اسلام میں جو رکاوٹیں تھیں وہ دور کر دیں اور مسلمانوں کو اچھی اچھی جاگیریں دیں۔راجہ کے لیے ابھی ایک اور دقت باقی تھی اور وہ یہ کہ مسلمان نہ دربار میں آتے تھے اور نہ اس کو سلام کرتے تھے۔ راجہ نے اس کی تجویز یہ سوچی کہ دربار میں قرآن شریف کو اپنے برابر رحل پررکھوایا تھا تاکہ جب مسلمان سلام کریں تو مسلمانوں کے نزدیک قرآن شریف کو اور راجہ کی عظمت کے لیے راجہ کو سلام تصور کیاجائے۔اللہ اکبر، مسلمانوں کی عظمت و شوکت کا ایک وہ دن تھا کہ وہ اپنے آپ کو ایسا بڑا سمجھتے تھے کہ اول تو کسی غیر مسلم کی نوکری نہ کرتے اور کرتے تو سلام کے رودار نہ ہوتے۔ یا اب ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی کے سلام کو بھی وہ اپنی عزت سمجھتے اور وہ بھی نصیب نہیں ہوتی۔
بڑا تو وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں
ہمارے ضلع کے ایک حاجی صاحب حضرت رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جمعہ کا دن تھا، حضرت اپنے کرتے پائجامے میں تشریف لائے۔ حاجی صاحب معمر آدمی تھے، بے تکلف تھے۔
عرض کیا کہ ’’حضرت آپ نے عبا نہیں پہنی۔‘‘فرمایا۔ ’’عبا بڑوں کا لباس ہے۔‘‘حاجی صاحب نے عرض کیا کہ ’’حضرت آپ بھی تو بڑے ہیں۔‘‘فرمایا کہ ’’میں کیا بڑا ہوں، ابھی تو میرا ایک خلق بھی درست نہیں ہوا۔‘‘اللہ کی کبریائی جن کے سامنے ہوتی ہے وہ اپنے کو سراپا تقصیر سمجھتے ہیں۔
بادشاہوں کے دل
مالک بن دینار رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ توراۃ میں لکھا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے: ’’بادشاہوں کادل میرے ہاتھ میں ہے، جو شخص میری اطاعت کرے گا، اس پر بادشاہ کو رحمت بناؤں گا اور جو نافرمانی کرے گا اس پر بادشاہ کو سخت کر دوں گا۔ پس تم بادشاہوں کو گالی نہ دیا کرو۔ اور جو بادشاہ تم پر سب سے بڑھ کر مہربان ہے اس کے سامنے توبہ کرو۔‘‘



















































