اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

اقوام متحدہ میں عرب اور غیر ملکی سربراہوں کی دلچسپ کہانیاں

datetime 2  مئی‬‮  2017 |

اقوام متحدہ میں تقاریر کے ڈائس کو عرب اور غیر ملکی سربراہوں نے اپنی کہانیوں کے لیے تھیٹر کے طور پر لیا جن میں سے بہت سی دلچسپ اور مزے دار کہانیاں تو کئی سال گزرنے کے باوجود ذہنوں میں موجود ہیں۔ 1960 میں جنرل اسمبلی کا اجلاس ابھی تک یادوں میں بسا ہوا ہے۔ ہم اس میں جنرل اسمبلی کے طویل ترین خطاب کی بات کرتے ہیں۔

کیوبا کے صدر فیڈل کاسترو کے 4.5 گھنٹے کے خطاب میں انہوں نے امریکی سامراجیت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس وقت امریکی صدارتی امیدواروں جان کینیڈی اور رچرڈ نکسن کی شان میں نامناسب کلمات بھی کہے تھے۔ جہاں تک سرد جنگ کے دوران سب سے زیادہ شہرت پانے والے خطاب کی بات ہے تو وہ سوویت یونین کے رہنما نکیتا خروشیف کا تھا جو اپنے مشہور جوتے کی وجہ سے بھی جانے جاتے ہیں۔ یہ جوتا انہوں نے جنرل اسمبلی کے ڈائس پر کھڑے ہونے کے دوران اٹھایا تھا۔ وہ امریکا کی جانب سے پیپلز چین کو تسلیم کرنے سے انکار اور فلپائن میں اس کی سامراجی پالیسی پر غضب ناک ہو گئے تھے۔ فلسطین کے سابق رہنما یاسر عرفات 1974 میں ہاتھ میں زیتون کی شاخ لے کر آگئے تھے۔ لیبیا کے سابق سربراہ معمر قذافی نے 2009 میں جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران اقوام متحدہ کا منشور ہاتھ میں تھاما اور پھر اس کو سب کے سامنے پھاڑ دیا۔ قذافی کے خیال میں سلامتی کونسل دہشت کونسل بن چکی ہے۔ وینزوئیلا کے سابق صدر ہوگو شاویز کا خطاب بھی ان خطابات میں شامل ہے جو سننے والوں بالخصوص ان کے مخاصمین کی سماعت پر کافی گراں گزرا۔

2006 میں ہوگو شاویز نے جارج بش جونیئر کو (جنہوں نے ایک روز قبل خطاب کیا تھا) تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ “شیطان کل یہاں موجود تھا”۔ سال 2012 میں اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایران کے سابق صدر محمود احمدی نژاد نے اسرائیل پر سخت نکتہ چینی کی جس کے نتیجے میں اسرائیلی وفد ہال سے چلا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…