اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

بادشاہ کے سامنے حق گوئی

datetime 2  مئی‬‮  2017 |

ابو جعفر منصور دولت عباسیہ کے حکمران نے اپنے وزیر ربیع بن یونس کو درہموں کے تین توڑے دیے اور کہا کہ ان میں سے ایک مالک کو دینا، ایک ابن ابی زئب کو اور ایک ابوحنیفہ کو!ابو جعفر جو اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے سختیوں پر اتر آیا تھا، علمائے امت کو اپنا ہمنوا بنانا چاہتا تھا۔ وہ جن کی تاک میں تھا وہ اس دور ہی کی نہیں ہماری تاریخ کی عظیم ترین ہستیاں تھیں۔

اس نے ربیع بن یونس سے کہا ’’مالک میرا عطیہ لے لیں تو انہیں کچھ نہیں کہنا، ابن ابی ذئب یا ابو حنیفہ میں کوئی میرا عطیہ لے لے تو پھر اس کی گردن اڑا دینا۔‘‘تخت و تاج کے لیے اس زمانے میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی۔ ان بزرگوں کو دو مصیبتیں تھیں۔ ایک یہ کہ فاسق و فاجر اور ظالم برسراقتدار آ رہے تھے اور خلافت کا نظام پارہ پارہ ہوا جا رہا تھا۔ جسے وہ برداشت نہ کر سکتے تھے۔ دوسرے یہ کہ وہ حق گو اور بے باک تھے۔ ان میں سے کوئی بھی حکمرانی کے لیے کسی کا طرف دار یا مخالف نہیں تھا، کیونکہ کسی کامیاب انقلاب کے بعد کسی کے برسراقتدار آنے کا مسئلہ نظریہ ضرورت کے تحت آ سکتا ہے یا نہیں، اسے بھی انہیں جانچنا تھا۔ ان کا مقصود اصلاح تھا، امت میں تفرقہ ڈالنا نہیں تھا۔اللہ کے جن نیک بندوں کا یہاں ذکر ہے وہ خود اقتدار میں دلچسپی رکھتے تھے، نہ انہیں حاضر باشی اور دربار داری کی کوئی تمنا تھی۔ یہ تو علماء کا کردار ہوتاہے۔ وہ بیت المال کی حفاظت اور حکمران کے کرداروں کے جھول درست کرنا چاہتے تھے۔ ضرورت محسوس کی تو امام ابو حنیفہ نے امام ابو یوسف کو آج کی اصطلاح میں مملکت کا چیف جسٹس بننے کی اجازت دے دی۔ ان سے پہلے رجاء بن حیوہ نے سلیمان بن عبدالمالک کی ایسی تربیت کی کہ اس نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اپناجانشین نامزد کر دیا۔

یہ علماء حق کا طور طریق تھا۔ اکبر کے دور میں حضرت مجدد الف ثانی نے پوری قوت سے ارتداد کے فتنے کو روکا۔ یہ بات کہ بادشاہ کے مصاحب بننے کے لیے نام نہاد صاحبان عبا و قبا ہمیشہ سودا بازی کر لیتے ہیں، یہ صرف تاریخ کا حصہ نہیں، یہ جلوے آج بھی نظر آتے ہیں۔ ایک ارشاد نبویؐ کا مطلب ہے کہ سید الشہداء حمزہ بن عبدالمطلب ہیں، دوسرا وہ شخص جو سلطان جابر کے آگے حق بات کہے۔

اسے ظلم و ستم سے روکے اور اپنے اس عمل کی وجہ سے مارا جائے۔ الکروری، مناقب امام اعظم میں لکھتے ہیں کہ درہموں کے توڑے بھیجنے سے پہلے اس نے تینوں بزرگوں کو اپنے دربار میں بلوایا اور ان سے سوال کیا کہ ’’یہ بتائیے میں حکومت کا اہل ہوں کہ نہیں۔‘‘امام مالک نے ذومعنی جواب دے کر ٹالا۔ فرمایا کہ ’’اہل نہ ہوتے تو تخت کس طرح ملتا!‘‘ابن ابی ذئب نے کہا ’’اللہ جسے چاہے دنیا کی حکومت یا آخرت کی بھلائی عطا فرمائے۔

اگر آپ نے اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کی تو ممکن ہے کہ وہ آپ پر مہربان ہو ورنہ آپ توفیق الہیٰ سے محروم رہیں گے۔ رہی خلافت کی بات تو یہ پرہیز گار لوگوں کی رائے سے قائم ہوتی ہے، جو شخص خود اقتدار پر قابض ہو جائے وہ پرہیز گاری سے محروم ہوتا ہے۔ آپ اور آپ کے ساتھی حق پر نہیں، اس لیے توفیق الہیٰ آپ کے ساتھ نہیں۔ اگر آپ نے اپنے اعمال اچھے رکھے اور رب العزت سے ڈرتے رہے تو شاید اس جگہ کے اہل ہو جائیں۔

ورنہ آپ کو کس نے روکاہے کہ آپ اپنے آپ کو حکومت و اقتدار کا اہل نہ سمجھیں!‘‘امام ابو حنیفہؒ کہتے ہیں کہ ابن ابی ذئب کی باتیں سن کر میں نے اور مالک نے اپنے اپنے کپڑے سمیٹ لیے۔ ہم نے سوچا ابھی اس کی گردن اڑا دی جائے گی اور اس خون ناحق کے چھینٹے ہم پر بھی پڑیں گے۔منصور کچھ اور ہی سوچ کر بیٹھا تھا، اس لیے اس وقت وہ ابی ذئب کی بات پی گیا اور امام ابو حنیفہؒ کی طرف پلٹا۔

پوچھا ’’جناب! آپ کا میرے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘امام ابو حنیفہؒ اللہ کے ان بندوں میں سے تھے جو رائے کی آزادی کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ ان کا تو یہ کہنا تھا کہ جو عدالت دباؤ میں آ کر جھوٹا فیصلہ کرے، اس کا احترام واجب نہیں۔ نظم و نسق کی اصلاح ان کی نظر میں اتنی اہم تھی کہ وہ اسے کافروں سے جہاد کرنے سے بڑا کام کہتے تھے۔

بات ان تک آئی تو انہوں نے کہا ’’ابو جعفر! سچائی کو ڈھونڈنے والااور سیدھے راستے پر چلنے کی خواہش رکھنے والا وہ ہوتا ہے جواپنے غصے پر قابو رکھتا ہے۔ آپ ذرا اپنا دل ٹٹول کر دیکھیں کہ آپ نے ہمیں یہاں کیوں بلایا ہے؟ دو ٹوک بات سننے کے لیے یا؟ یاہماری زبانوں سے وہ کہلوانے کے لیے جو آپ چاہتے ہیں تاکہ دنیا میں ڈھنڈورا پٹوا دیں کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں؟

اگر سچ پوچھئے تو دو عالمان حق بھی آپ کے ساتھ نہیں! یاد رکھئے کہ خلافت کا منصب بیعت انتخاب کے سوا کسی اور طرح حاصل نہیں ہوتا۔ یہ رائے کسی ایک گروہ یا ایک خطے کی نہیں، مملکت کے ہر حصے کے رہنے والوں کی ہونی چاہیے۔ آپ کو معلوم ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ اہم فیصلوں سے چھ مہینے تک رکے رہے کہ ان کو اہل یمن کی بیعت کا انتظار تھا۔‘‘

منصور کے دربار سے جب وہ تینوں بزرگ اپنی اپنی بات کہہ کر اٹھ گئے تو اس نے اشرفیوں کے توڑے دے کر ربیع کو ان کے پیچھے بھیجا۔امام مالکؒ کو عطیہ پیش کیاگیا تو انہوں نے بڑی بیزاری سے کہا کہ ’’جو بھی لائے ہو چھوڑ جاؤ!‘‘ وہ اس عطیہ کو بھی ناجائز سمجھتے تھے۔ابن ابی ذئب کے پاس ربیع پہنچا تو جواب ملا ’’میں تو بیت المال سے یوں کچھ لینا اپنے لیے حلال نہیں سمجھتا نہ منصور کے لیے حلال سمجھتا ہوں۔‘‘

امام ابو حنیفہؒ نے دو ٹوک بات کہہ دی۔ ’’ربیع، تم میری گردن بھی اڑا دو تو میں اس عطیہ کو ہاتھ نہ لگاؤں گا!‘‘لوٹ کر جب ربیع نے اپنے آقا کو تفصیل سنائی تو منصور نے بڑی حسرت سے کہا ’’افسوس! ان کی بے نیازی نے انہیں بچا لیا۔‘‘سورۃ الحشر میں ارشاد ربانی ہے:وتلک الامثال نضربھا للناس لعلھم یتفکرونO’’اور ہم لوگوں کو مثالیں دے دے کر سمجھا دیتے ہیں کہ وہ غور و فکر کریں۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…