اصحاب کہف کے ساتھ ایک کتا چل پڑا تھا۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے انسانی شکل عطا کریں گے اور جنت عطا فرما دیں گے۔‘‘ نیکوں کے ساتھ نسبت حاصل ہونے سے اگر کتے کو جنت مل سکتی ہے تو اگر مومن اللہ والوں کے ساتھ نسبت پکی کر لے تو نجات کیوں نہیں ہو گی۔
اعضائے جسم استعمال کرتے وقت احتیاط کریں
دل کی مثال ایک تالاب کی ہے جس میں چار راستوں سے پانی آ رہا ہے۔ ان راستوں کے ذریعے جیسا صاف یا گندہ پانی آئے گا، ویسا ہی پانی تالاب میں جمع ہوگا اور وقت ضرورت وہی صاف یا گندا پانی باہر آئے گا۔ تالاب دل ہے اور چار راستے آنکھ، زبان، کان اور دماغ ہیں۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ان چاروں راستوں کو استعمال کرتے وقت احتیاط سے کام لیں۔
انسانی کھوپڑیوں کا مینار
ایک دفعہ تاتاریوں کے سردار چنگیز خان سے کسی نے پوچھا ’’اے خانِ تاتار تو نے کبھی کسی پر رحم کیا؟‘‘چنگیز خان نے کہا ’’ہاں۔ ایک دفعہ میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر نیزہ اٹھائے ایک ندی کے کنارے سے گزر رہا تھا۔ ایک عورت ندی کے کنارے کھڑی ہوئی مدد کے لیے پکار رہی تھی۔ میں نے دیکھا کہ اس کا ننھا سا بچہ ندی میں ڈبکیاں کھا رہا ہے۔ مجھے اس عورت پر ترس آ گیا۔ بچہ کنارے سے زیادہ دور نہ تھا۔ میں گھوڑے سے اتر کر قریب پہنچا۔پھر میں نے اپناہاتھ بڑھا کر نیزہ بچے کے پیٹ میں گھونٹ دیا اور اسے نیزے کی انّی پر اٹھا کر اس کی ماں کے سپرد کر دیا۔‘‘چنگیز خان جب بھی کوئی شہر فتح کرتا تو فتح کی یادگار کے طور پر انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنا دیتا۔ بغداد فتح کرنے کے بعد اس نے نوے ہزار کھوپڑیوں کا مینار بنایا۔



















































