سلطان محمد بیکڑا علماء کی مجلس میں بیٹھا تھا۔ علماء قرآن کی عظمت پر بات کر رہے تھے۔ ایک عالم نے ایسے میں کہا ’’قیامت کے دن سورج کے قریب آ جانے کی وجہ سے سب لوگ پریشان ہوں گے، لیکن جو شخص قرآن کا حافظ ہو گا، اس کے قریبی عزیز اس روز رحمت کے سائے میں ہوں گے۔ سورج کی حرارت اس پر اثر انداز نہ ہو گی۔‘‘
سلطان نے یہ سن کر ایک سرد آہ بھری اور کہا ’’افسوس! ہمارے بیٹوں میں سے کوئی یہ سعادت حاصل نہ کر سکا کہ میں قیامت کے دن سورج کی تپش سے بچ جاتا۔‘‘ اس مجلس میں سلطان کابیٹا خلیل بھی موجود تھا۔ اسی وقت اٹھا اور بڑودہ چلاگیا۔ وہاں ان کی جاگیر تھی۔ اس نے وہاں قرآن حفظ کرناشروع کر دیا۔ اس قدر محنت کی کہ آنکھیں سرخ رہنے لگیں۔ طبیب نے کہا بھی کہ راتوں کو جاگ کر قرآن یاد کرنے کی وجہ سے یہ سرخ ہوئی ہیں، لیکن اس نے کوئی پرواہ نہ کی۔ آخر ایک سال اور چند ماہ میں پورا قرآن حفظ کر لیا۔ رمضان سے پہلے سلطان کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا ’’حکم ہو تو تراویح میں قرآن سناؤں۔‘‘بادشاہ نے حیرت سے پوچھا ’’تم حافظ کب بن گئے، یہ کیسے ہو گیا؟‘‘شہزادہ خلیل نے سارا واقعہ سنا دیا۔ بادشاہ بیٹے سے لپٹ گیا۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لایا۔ خلیل نے تراویح میں پورا قرآن سنایا۔ بادشاہ اتنا خوش ہوا کہ اسے اپنے تخت پر بٹھا دیا۔
اللہ والوں کا پڑوسی ہونا خوش نصیبی ہے
محدثین میں ایک بزرگ ہیں جن کی کنیت ’’ابو حمزہ‘‘ ہے۔ ان کو ’’سکری‘‘ یا ’’شکری‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ عربی میں ’’سکر‘‘ نشے کو کہتے ہیں اور ’’شکر‘‘ چینی کو کہتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ان کا نام ’’ابو حمزہ سکری‘‘ اس لیے پڑ گیا تھا کہ ان کی باتوں میں اتنا نشہ تھا کہ جب یہ لوگوں سے باتیں کرتے تھے تو ان کی باتیں اتنی لذیذ ہوتی تھیں کہ سننے والوں کو لذت کا نشہ آ جاتا تھا۔ اور ’’شکری‘‘ اس لیے کہا جاتا ہےکہ ان کی باتیں چینی کی طرح میٹھی ہوتی تھیں۔
ان کی باتوں میں حلاوت اور مٹھاس تھی۔ایک مرتبہ ان کو پیسوں کی ضرورت پیش آئی، ان کے پاس ایک بڑا مکان تھا،مکان کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں تھی، جس کو بیچ کر پیسے حاصل کریں، انہوں نے ارادہ کیا کہ اس بڑے مکان کو بیچ کر کسی اور جگہ پر چھوٹا مکان خرید لوں اور جو پیسے بچیں اس سے اپنی ضرورت پوری کر لوں۔ چنانچہ انہوں نے ایک خریدار سے مکان کا سودا کر لیا اور ایک دو دن کے اندر مکان خالی کرکے اس کے حوالے کرنے کا وعدہ کر لیا۔پڑوسیوں کو جب معلوم ہوا کہ ’’ابو حمزہ سکری‘‘ مکان بیچ کر کہیں اور جا رہے ہیں تو سارے پڑوسی مل کر ان کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ ہمارا محلہ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ہماری درخواست یہ ہے کہ آپ ہمارا محلہ نہ چھوڑیں اور جتنے پیسے خریدار اس مکان کے بدلے آپ کو دے رہا ہے، ہم سب مل کر اتنے پیسے آپ کو دینے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن آپ کا یہاں سے ہمارا پڑوسی چھوڑ کر جانا قابل برداشت نہیں۔ اس لیے کہ آپ کے پڑوس کی بدولت ہمیں بہت سی نعمتیں میسر ہیں۔ ہمیں ایسا پڑوس ملنا مشکل ہے۔بہرحال! اگر نیک اور خوش اخلاق اور اللہ والا پڑوس مل جائے تو یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ حضور اقدسؐ نے اس کو انسان کی خوش نصیبی کی علامت قرار دیا۔



















































